Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 1900 (سنن أبي داود)

[1900] إسنادہ ضعیف

نسائی (2921)

محمد بن عبد اللہ بن السائب: مجہول (تقریب: 6022)

انوار الصحیفہ ص 73، 74

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا السَّائِبُ بْنُ عَمْرٍو الْمَخْزُومِيُّ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِيہِ أَنَّہُ كَانَ يَقُودُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَيُقِيمُہُ عِنْدَ الشُّقَّةِ الثَّالِثَةِ مِمَّا يَلِي الرُّكْنَ الَّذِي يَلِي الْحَجَرَ مِمَّا يَلِي الْبَابَ فَيَقُولُ لَہُ ابْنُ عَبَّاسٍ أُنْبِئْتُ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ كَانَ يُصَلِّي ہَا ہُنَا فَيَقُولُ نَعَمْ فَيَقُومُ فَيُصَلِّي

جناب محمد بن عبداللہ بن سائب اپنے والد (عبداللہ بن سائب سے بیان کرتے ہیں کہ وہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا ہاتھ پکڑ کر چلتے تھے (جبکہ وہ نابینا ہو چکے تھے) اور انہیں تیسرے کونے کے پاس کھڑا کر دیتے تھے جو کہ حجر اسود کے ساتھ دروازہ کعبہ کے پاس ہے تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اسے کہتے ’’کیا خبر دی گئی ہے تمہیں کہ رسول اللہ ﷺ یہاں نماز پڑھا کرتے تھے؟‘‘ تو وہ کہتے کہ ہاں! پھر وہ کھڑے ہو جاتے اور نماز پڑھتے۔