Sunan Abi Dawood Hadith 1913 (سنن أبي داود)
[1913]إسنادہ حسن
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَقَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ غَدَا رَسُولُ اللہِ ﷺ مِنْ مِنًی حِينَ صَلَّی الصُّبْحَ صَبِيحَةَ يَوْمِ عَرَفَةَ حَتَّی أَتَی عَرَفَةَ فَنَزَلَ بِنَمِرَةَ وَہِيَ مَنْزِلُ الْإِمَامِ الَّذِي يَنْزِلُ بِہِ بِعَرَفَةَ حَتَّی إِذَا كَانَ عِنْدَ صَلَاةِ الظُّہْرِ رَاحَ رَسُولُ اللہِ ﷺ مُہَجِّرًا فَجَمَعَ بَيْنَ الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ ثُمَّ رَاحَ فَوَقَفَ عَلَی الْمَوْقِفِ مِنْ عَرَفَةَ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عرفہ کے روز (نویں تاریخ کو) منیٰ میں صبح کی نماز پڑھائی،پھر عرفات کی طرف آئے اور وادی نمرہ میں پڑاؤ کیا۔وہی مقام جہاں کہ عرفات میں امام اترتا ہے (ان کے دور کی بات ہے) حتیٰ کہ جب ظہر کا وقت ہوا تو رسول اللہ ﷺ دوپہر کو گرمی کے وقت ہی میں وہاں سے روانہ ہو گئے اور ظہر و عصر کی نماز جمع کر کے پڑھائی،پھر لوگوں کو خطبہ دیا،پھر وہاں سے چلے اور عرفات میں اپنے موقف پر جا کر وقوف فرمایا۔