Sunan Abi Dawood Hadith 1925 (سنن أبي داود)
[1925]إسنادہ حسن
صحیح بخاری (1672) صحیح مسلم (1280 بعد ح 1285)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِكٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَی عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّہُ سَمِعَہُ يَقُولُ دَفَعَ رَسُولُ اللہِ ﷺ مِنْ عَرَفَةَ حَتَّی إِذَا كَانَ بِالشِّعْبِ نَزَلَ فَبَالَ فَتَوَضَّأَ وَلَمْ يُسْبِغْ الْوُضُوءَ قُلْتُ لَہُ الصَّلَاةُ فَقَالَ الصَّلَاةُ أَمَامَكَ فَرَكِبَ فَلَمَّا جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ نَزَلَ فَتَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ثُمَّ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَصَلَّی الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَنَاخَ كُلُّ إِنْسَانٍ بَعِيرَہُ فِي مَنْزِلِہِ ثُمَّ أُقِيمَتْ الْعِشَاءُ فَصَلَّاہَا وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَہُمَا شَيْئًا
کریب مولیٰ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ عرفات سے روانہ ہوئے حتیٰ کہ جب گھاٹی میں پہنچے تو اترے،پیشاب کیا،پھر وضو کیا مگر اس میں مبالغہ نہیں تھا۔میں نے عرض کیا: نماز؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’نماز تمہارے آگے ہے۔‘‘ (یعنی آگے پڑھیں گے) پھر آپ ﷺ سوار ہو گئے۔جب مزدلفہ پہنچے،تو اترے وضو کیا اور کامل وضو کیا۔پھر نماز کی اقامت کہی گئی تو مغرب کی نماز پڑھائی،پھر ہر شخص نے اپنے اپنے اونٹ کو اپنے اپنے پڑاؤ میں بٹھایا،پھر عشاء کی اقامت کہی گئی تو آپ ﷺ نے نماز پڑھائی اور ان کے مابین کچھ نہیں پڑھا۔