Sunan Abi Dawood Hadith 1940 (سنن أبي داود)
[1940] إسنادہ ضعیف
نسائی (3066) ابن ماجہ (3025)
الحسن العرني ثقۃ أرسل عن ابن عباس (تقریب: 1252)
ولبعض الحدیث شواھد بعضھا حسنۃ عند الطحاوي (مشکل الآثار 9/ 119ح 3494) وغیرہ
والحدیث الآتي (الأصل: 1941) یغني عنہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُہَيْلٍ عَنْ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدَّمَنَا رَسُولُ اللہِ ﷺ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ أُغَيْلِمَةَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَلَی حُمُرَاتٍ فَجَعَلَ يَلْطَخُ أَفْخَاذَنَا وَيَقُولُ أُبَيْنِيَّ لَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ قَالَ أَبُو دَاوُد اللَّطْخُ الضَّرْبُ اللَّيِّنُ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مزدلفہ کی رات ہم بنی عبدالمطلب کے چھوٹے لڑکوں کو گدھوں پر سوار کر کے آگے بھیج دیا تھا۔اس موقع پر آپ ﷺ ہماری رانوں پر آہستہ آہستہ مارتے ہوئے فرما رہے تھے ’’بچو! سورج طلوع ہونے سے پہلے جمرہ کو کنکریاں نہ مارنا۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ((اللطخ)) کا معنی ہے ’’نرم انداز میں مارنا۔‘‘