Sunan Abi Dawood Hadith 1953 (سنن أبي داود)
[1953]إسنادہ حسن
صححہ ابن خزیمۃ (2973 وسندہ حسن) ربیعۃ بن عبد الرحمن بن حصن وثقہ ابن خزیمۃ وابن حبان فھو حسن الحدیث
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُصَيْنٍ حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي سَرَّاءُ بِنْتُ نَبْہَانَ وَكَانَتْ رَبَّةُ بَيْتٍ فِي الْجَاہِلِيَّةِ قَالَتْ خَطَبَنَا رَسُولُ اللہِ ﷺ يَوْمَ الرُّءُوسِ فَقَالَ أَيُّ يَوْمٍ ہَذَا قُلْنَا اللہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ قَالَ أَلَيْسَ أَوْسَطَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ قَالَ أَبُو دَاوُد وَكَذَلِكَ قَالَ عَمُّ أَبِي حُرَّةَ الرَّقَاشِيِّ إِنَّہُ خَطَبَ أَوْسَطَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ
ربیعہ بن عبدالرحمٰن بن حصین اپنی دادی سراء بنت نبہان رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں یہ خاتون قبل از اسلام ایک گھر کی نگران تھیں (جس میں بت ہوا کرتے تھے) وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رؤوس والے دن ہمیں خطبہ دیا۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’یہ کون سا دن ہے؟‘‘ ہم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’کیا یہ ایام تشریق کا درمیانی دن نہیں ہے؟‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ابوحرہ رقاشی کے چچا نے بھی ایسے ہی روایت کیا ہے کہ آپ نے ایام تشریق کے درمیانی دن میں خطبہ دیا۔