Sunan Abi Dawood Hadith 1987 (سنن أبي داود)
[1987]حسن
محمد بن إسحاق صرح بالسماع عند أحمد (1/261)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا ہَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ عَنْ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيہِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ وَاللہِ مَا أَعْمَرَ رَسُولُ اللہِ ﷺ عَائِشَةَ فِي ذِي الْحِجَّةِ إِلَّا لِيَقْطَعَ بِذَلِكَ أَمْرَ أَہْلِ الشِّرْكِ فَإِنَّ ہَذَا الْحَيَّ مِنْ قُرَيْشٍ وَمَنْ دَانَ دِينَہُمْ كَانُوا يَقُولُونَ إِذَا عَفَا الْوَبَرْ وَبَرَأَ الدَّبَرْ وَدَخَلَ صَفَرْ فَقَدْ حَلَّتْ الْعُمْرَةُ لِمَنْ اعْتَمَرْ فَكَانُوا يُحَرِّمُونَ الْعُمْرَةَ حَتَّی يَنْسَلِخَ ذُو الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمُ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ قسم اﷲ کی! رسول اللہ ﷺ نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو ذی الحجہ میں صرف اس لیے عمرہ کرایا تھا کہ اس سے اہل شرک کا عمل باطل کریں۔بلاشبہ قبیلہ قریش اور ان کے اہل دین کہا کرتے تھے کہ جب اونٹوں کے بال بڑھ جائیں،ان کے زخم ٹھیک ہو جائیں اور ماہ صفر شروع ہو جائے تو عمرہ کرنے والے کے لیے عمرہ کرنا حلال ہو گیا۔یہ لوگ ان دنوں میں عمرہ کرنے کو حرام کہتے تھے حتیٰ کہ ذوالحجہ اور محرم گزر جائے۔