Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 1988 (سنن أبي داود)

[1988] إسنادہ ضعیف

نسائی فی الکبریٰ (4227)

رسول مروان: لم أعرفہ وأصل الحدیث صحیح،رواہ أحمد (406/6) بسند حسن: ((عمرۃ في شہر رمضان تعدل حجۃ))

انوار الصحیفہ ص 76

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَاأَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ إِبْرَاہِيمَ بْنِ مُہَاجِرٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَنِي رَسُولُ مَرْوَانَ الَّذِي أُرْسِلَ إِلَی أُمِّ مَعْقَلٍ قَالَتْ كَانَ أَبُو مَعْقَلٍ حَاجًّا مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ فَلَمَّا قَدِمَ قَالَتْ أُمُّ مَعْقَلٍ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ عَلَيَّ حَجَّةً فَانْطَلَقَا يَمْشِيَانِ حَتَّی دَخَلَا عَلَيْہِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللہِ إِنَّ عَلَيَّ حَجَّةً وَإِنَّ لِأَبِي مَعْقَلٍ بَكْرًا قَالَ أَبُو مَعْقَلٍ صَدَقَتْ جَعَلْتُہُ فِي سَبِيلِ اللہِ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ أَعْطِہَا فَلْتَحُجَّ عَلَيْہِ فَإِنَّہُ فِي سَبِيلِ اللہِ فَأَعْطَاہَا الْبَكْرَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللہِ إِنِّي امْرَأَةٌ قَدْ كَبِرْتُ وَسَقِمْتُ فَہَلْ مِنْ عَمَلٍ يُجْزِئُ عَنِّي مِنْ حَجَّتِي قَالَ عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تُجْزِئُ حَجَّةً

ابوبکر بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ مجھے مروان کے اس پیغامبر نے خبر دی جس کو اس نے ام معقل رضی اللہ عنہا کے ہاں بھیجا تھا۔ام معقل رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ابو معقل رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کے لیے نکلے۔جب وہ آئے تو ام معقل نے کہا: تم جانتے ہو کہ مجھ پر (بھی) حج (لازم) ہے۔چنانچہ وہ دونوں چلتے آئے حتیٰ کہ رسول اللہ ﷺ سے ملے۔پس ام معقل رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! بلاشبہ مجھ پر حج فرض ہے اور ابو معقل کے پاس صرف ایک اونٹ ہے۔ابو معقل رضی اللہ عنہ کہنے لگے یہ سچ کہتی ہے اور میں نے اس اونٹ کو اللہ کی راہ میں کر دیا ہے (جہاد میں۔) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’تم یہ اسے دے دو،یہ اس پر حج کرے گی،یہ بھی فی سبیل اللہ ہے۔‘‘ چنانچہ ابو معقل رضی اللہ عنہ نے یہ اونٹ اسے دے دیا۔تو وہ کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! میں عورت ذات ہوں،عمر زیادہ ہو گئی ہے اور بیمار بھی ہوں،تو کیا کوئی عمل ایسا ہے جو مجھ سے میرے حج سے کفایت کر جائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’رمضان میں عمرہ،حج سے کفایت کرتا ہے۔‘‘