Sunan Abi Dawood Hadith 1999 (سنن أبي داود)
[1999]إسنادہ حسن
صححہ ابن خزیمۃ (2958 وسندہ حسن) أبو عبیدۃ بن عبد اللّٰہ بن زمعۃ صدوق حسن الحدیث، وثقہ ابن خزیمۃ بتخریج حدیثہ وروی لہ مسلم في صحیحہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَيَحْيَی بْنُ مَعِينٍ الْمَعْنَی وَاحِدٌ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ زَمْعَةَ عَنْ أَبِيہِ وَعَنْ أُمِّہِ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ يُحَدِّثَانِہِ جَمِيعًا ذَاكَ عَنْہَا قَالَتْ كَانَتْ لَيْلَتِي الَّتِي يَصِيرُ إِلَيَّ فِيہَا رَسُولُ اللہِ ﷺ مَسَاءَ يَوْمِ النَّحْرِ فَصَارَ إِلَيَّ وَدَخَلَ عَلَيَّ وَہْبُ بْنُ زَمْعَةَ وَمَعَہُ رَجُلٌ مِنْ آلِ أَبِي أُمَيَّةَ مُتَقَمِّصَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ لِوَہْبٍ ہَلْ أَفَضْتَ أَبَا عَبْدِ اللہِ قَالَ لَا وَاللہِ يَا رَسُولَ اللہِ قَالَ ﷺ انْزِعْ عَنْكَ الْقَمِيصَ قَالَ فَنَزَعَہُ مِنْ رَأْسِہِ وَنَزَعَ صَاحِبُہُ قَمِيصَہُ مِنْ رَأْسِہِ ثُمَّ قَالَ وَلِمَ يَا رَسُولَ اللہِ قَالَ إِنَّ ہَذَا يَوْمٌ رُخِّصَ لَكُمْ إِذَا أَنْتُمْ رَمَيْتُمْ الْجَمْرَةَ أَنْ تَحِلُّوا يَعْنِي مِنْ كُلِّ مَا حُرِمْتُمْ مِنْہُ إِلَّا النِّسَاءَ فَإِذَا أَمْسَيْتُمْ قَبْلَ أَنْ تَطُوفُوا ہَذَا الْبَيْتَ صِرْتُمْ حُرُمًا كَہَيْئَتِكُمْ قَبْلَ أَنْ تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّی تَطُوفُوا بِہِ
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ قربانی والے دن شام کو میری باری کی رات تھی،جس میں کہ رسول اللہ ﷺ کو میرے پاس تشریف لانا تھا۔چنانچہ آپ ﷺ تشریف لائے اور میرے پاس وہب بن زمعہ آیا اور اس کے ساتھ آل ابی امیہ کا ایک اور آدمی بھی تھا۔ان دونوں نے قمیصیں پہن رکھی تھیں،تو رسول اللہ ﷺ نے وہب سے فرمایا ’’ابوعبداللہ! کیا تم نے طواف افاضہ کر لیا ہے؟‘‘ اس نے کہا: نہیں،قسم اللہ کی! اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا ’’اپنی یہ قمیص اتار دو۔‘‘ چنانچہ اس نے اپنی قمیص اتار دی اور سر کی جانب سے اتاری۔اور اس کے ساتھی نے بھی اتار دی،اور سر کی جانب سے اتاری۔پھر انہوں نے پوچھا،اور یہ کیوں اے اللہ کے رسول؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’بلاشبہ تمہیں اس دن میں رخصت ہے کہ جب تم جمرہ کو کنکریاں مار لو تو حلال ہو جاؤ۔یعنی ہر اس چیز سے جو تم پر حرام کی گئی ہے،سوائے بیویوں کے۔اگر بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے شام ہو جائے تو تم پھر سے محرم ہو جاؤ گے جیسے کہ کنکریاں مارنے سے پہلے تھے حتیٰ کہ اس کا طواف کر لو۔‘‘