Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 2006 (سنن أبي داود)

[2006]صحیح

صحیح بخاری (1560) صحیح مسلم (1211)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي الْحَنَفِيَّ حَدَّثَنَا أَفْلَحُ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَرَجْتُ مَعَہُ تَعْنِي مَعَ النَّبِيِّ ﷺ فِي النَّفْرِ الْآخِرِ فَنَزَلَ الْمُحَصَّبَ قَالَ أَبُو دَاوُد وَلَمْ يَذْكُرْ ابْنُ بَشَّارٍ قِصَّةَ بَعْثِہَا إِلَی التَّنْعِيمِ فِي ہَذَا الْحَدِيثِ قَالَتْ ثُمَّ جِئْتُہُ بِسَحَرٍ فَأَذَّنَ فِي أَصْحَابِہِ بِالرَّحِيلِ فَارْتَحَلَ فَمَرَّ بِالْبَيْتِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ فَطَافَ بِہِ حِينَ خَرَجَ ثُمَّ انْصَرَفَ مُتَوَجِّہًا إِلَی الْمَدِينَةِ

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہے بیان کیا کہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ منٰی سے آخری دن میں نکلی تو آپ ﷺ نے وادی محصب میں پڑاؤ کیا۔(مکہ اور منٰی کے درمیان مقبرۃ المعلاۃ سے منٰی کی طرف جانے والے راستے کا نام ابطح اور محصب ہے۔) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن بشار نے اس حدیث میں ان کو تنعیم کی طرف روانہ کرنے کا ذکر نہیں کیا۔(سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) کہتی ہیں چنانچہ میں سحر کے وقت (عمرے سے فارغ ہو کر) آپ کے پاس پہنچی تو آپ نے صحابہ کو کوچ کا حکم دیا اور خود سوار ہوئے اور نماز فجر سے پہلے بیت اللہ میں آئے،طواف کیا اور پھر مدینہ کی راہ کی طرف چل نکلے۔