Sunan Abi Dawood Hadith 201 (سنن أبي داود)
[201]صحیح
صحیح مسلم (376)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَدَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ،قَالَ:ا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ،عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ،قَالَ: أُقِيمَتْ صَلَاةُ الْعِشَاءِ،فَقَامَ رَجُلٌ،فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ! إِنَّ لِي حَاجَةً،فَقَامَ يُنَاجِيہِ،حَتَّی نَعَسَ الْقَوْمُ أَوْ بَعْضُ الْقَوْمِ،ثُمَّ صَلَّی بِہِمْ،وَلَمْ يَذْكُرْ وُضُوءًا.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نماز عشاء کی اقامت کہی جا چکی تھی کہ ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! مجھے آپ سے کام ہے۔چنانچہ وہ آپ ﷺ سے سرگوشیاں کرنے لگا۔حتیٰ کہ قوم کو یا ان میں سے کچھ کو اونگھ آنے لگی۔اس کے بعد آپ نے نماز پڑھائے اور (سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے) وضو کرنے کا ذکر نہیں کیا۔‘‘