Sunan Abi Dawood Hadith 202 (سنن أبي داود)
[202] إسنادہ ضعیف
ترمذی (77)
أبو خالد الدالاني وقتادۃ مدلسان وعنعنا
وقال الدارقطني: ’’تفرد بہ أبو خالد عن قتادۃ ولا یصح‘‘ (سنن دارقطنی: 1/ 159،160)
وحدیث عائشۃ رواہ البخاري (2013) ومسلم (738)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ مَعِينٍ وَہَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ وَہَذَا لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَی،عَنْ أَبِي خَالِدٍ الدَّالَانِيِّ،عَنْ قَتَادَةَ،عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ،عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ كَانَ يَسْجُدُ وَيَنَامُ وَيَنْفُخُ،ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي وَلَا يَتَوَضَّأُ،قَالَ: فَقُلْتُ لَہُ: صَلَّيْتَ وَلَمْ تَتَوَضَّأْ وَقَدْ نِمْتَ؟! فَقَالَ: إِنَّمَا الْوُضُوءُ عَلَی مَنْ نَامَ مُضْطَجِعًا. زَادَ عُثْمَانُ وَہَنَّادٌ فَإِنَّہُ إِذَا اضْطَجَعَ اسْتَرْخَتْ مَفَاصِلُہُ. (ضعيف). قَالَ أَبُو دَاوُد: قَوْلُہُ الْوُضُوءُ عَلَی مَنْ نَامَ مُضْطَجِعًا ہُوَ حَدِيثٌ مُنْكَرٌ لَمْ يَرْوِہِ إِلَّا يَزِيدُ أَبُو خَالِدٍ الدَّالَانِيُّ،عَنْ قَتَادَةَ وَرَوَی أَوَّلَہُ جَمَاعَةٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَلَمْ يَذْكُرُوا شَيْئًا مِنْ ہَذَا وَقَالَ كَانَ النَّبِيُّ ﷺ مَحْفُوظًا. وَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللہُ عَنْہَا: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: تَنَامُ عَيْنَايَ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي.(صحيح). وقَالَ شُعْبَةُ: إِنَّمَا سَمِعَ قَتَادَةُ مِنْ أَبِي الْعَالِيَةِ أَرْبَعَةَ أَحَادِيثَ: حَدِيثَ يُونُسَ بْنِ مَتَّی،وَحَدِيثَ ابْنِ عُمَرَ فِي الصَّلَاةِ،وَحَدِيثَ الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ،وَحَدِيثَ ابْنِ عَبَّاسٍ. حَدَّثَنِي رِجَالٌ مَرْضِيُّونَ مِنْہُمْ عُمَرُ وَأَرْضَاہُمْ عِنْدِي عُمَرُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَذَكَرْتُ حَدِيثَ يَزِيدَ الدَّالَانِيِّ لِأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ فَانْتَہَرَنِي اسْتِعْظَامًا لَہُ وَقَالَ مَا لِيَزِيدَ الدَّالَانِيِّ يُدْخِلُ عَلَی أَصْحَابِ قَتَادَةَ وَلَمْ يَعْبَأْ بِالْحَدِيثِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سجدہ کرتے اور (بعض اوقات اس میں) سو جاتے اور خراٹے لینے لگتے،پھر کھڑے ہوتے اور نماز پڑھنے لگتے اور وضو نہ کرتے۔میں نے (ایک بار) عرض کیا کہ آپ نے نماز پڑھ لی اور وضو نہیں کیا،حالانکہ آپ سو گئے تھے فرمایا ’’وضو اس پر ہے جو لیٹ کر سوئے۔“ عثمان اور ہناد نے اضافہ کیا انسان جب لیٹ جاتا ہے تو اس کے جوڑ ڈھیلے ہو جاتے ہیں۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس روایت میں یہ ٹکڑا ’’وضو اس پر ہے جو لیٹ کر سوئے‘‘ منکر ہے،اسے صرف یزید ابوخالد دالانی نے قتادہ سے روایت کیا ہے۔جبکہ اس روایت کا ابتدائی حصہ ایک جماعت نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ہے مگر وہ یہ ٹکڑا بیان نہیں کرتے اور (عکرمہ) کہتے ہیں کہ نبی رسول اللہ ﷺ (دل کی نیند سے) محفوظ تھے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’میری آنکھیں سوتی ہیں،مگر دل نہیں سوتا۔‘‘ شعبہ کہتے ہیں قتادہ نے ابوالعالیہ سے چار حدیثیں سنی ہیں: 1 حدیث یونس بن متی۔2 ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث جو نماز کے بارے میں ہے۔3 اور وہ حدیث کہ قاضی تین قسم کے ہوتے ہیں۔4 اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث کہ مجھے معتمد اور پسندیدہ افراد نے حدیث بیان کی ان میں سے ایک عمر رضی اللہ عنہ ہیں اور ان میں سب سے زیادہ قابل اعتماد اور پسندیدہ میرے نزدیک عمر رضی اللہ عنہ ہی ہیں۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے یزید دالانی کی حدیث امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے سامنے پیش کی تو انہوں نے مجھ کو اس کی (انتہائی) کمزوری کے باعث ڈانٹ دیا اور کہا کہ یزید دالانی کو کیا ہوا کہ مشائخ قتادہ کی روایات میں (وہ کچھ) داخل کر دیتا ہے (جو ان میں نہیں ہوتا) اور اس حدیث کو انہوں نے کوئی اہمیت نہ دی۔