Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 2021 (سنن أبي داود)

[2021]صحیح

صحیح مسلم (1316)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ مَا بَالُ أَہْلِ ہَذَا الْبَيْتِ يَسْقُونَ النَّبِيذَ وَبَنُو عَمِّہِمْ يَسْقُونَ اللَّبَنَ وَالْعَسَلَ وَالسَّوِيقَ أَبُخْلٌ بِہِمْ أَمْ حَاجَةٌ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَا بِنَا مِنْ بُخْلٍ وَلَا بِنَا مِنْ حَاجَةٍ وَلَكِنْ دَخَلَ رَسُولُ اللہِ ﷺ عَلَی رَاحِلَتِہِ وَخَلْفَہُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَدَعَا رَسُولُ اللہِ ﷺ بِشَرَابٍ فَأُتِيَ بِنَبِيذٍ فَشَرِبَ مِنْہُ وَدَفَعَ فَضْلَہُ إِلَی أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ فَشَرِبَ مِنْہُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ أَحْسَنْتُمْ وَأَجْمَلْتُمْ كَذَلِكَ فَافْعَلُوا فَنَحْنُ ہَكَذَا لَا نُرِيدُ أَنْ نُغَيِّرَ مَا قَالَہُ رَسُولُ اللہِ ﷺ

بکر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: اس گھر کے خدام کو کیا ہوا ہے کہ یہ لوگ نبیذ پلاتے ہیں (کھجور یا کشمش کا شربت) جب کہ ان کے چچا زاد (قریش) دودھ،شہد اور ستو پلاتے ہیں؟ کیا یہ بخیل ہیں یا محتاج؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا۔ہم بخیل ہیں نہ محتاج۔دراصل جب رسول اللہ ﷺ اپنی سواری پر تشریف لائے تھے اور ان کے پیچھے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوئے تھے تو آپ ﷺ نے پینے کو کچھ طلب کیا تو انہیں نبیذ پیش کی گئی تھی۔آپ نے اس میں سے پی اور باقی اسامہ رضی اللہ عنہ کو دے دی،انہوں نے بھی اس سے پی۔پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’تم نے بہت خوب کیا،بہت اچھا کیا،سو ایسے ہی کیا کرو۔‘‘ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے جو فرما دیا ہے اس کو ہم بدلنا نہیں چاہتے۔