Sunan Abi Dawood Hadith 2027 (سنن أبي داود)
[2027]صحیح
صحیح بخاری (1601)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللہِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ لَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ أَبَی أَنْ يَدْخُلَ الْبَيْتَ وَفِيہِ الْآلِہَةُ فَأَمَرَ بِہَا فَأُخْرِجَتْ قَالَ فَأُخْرِجَ صُورَةُ إِبْرَاہِيمَ وَإِسْمَعِيلَ وَفِي أَيْدِيہِمَا الْأَزْلَامُ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ قَاتَلَہُمْ اللہُ وَاللہِ لَقَدْ عَلِمُوا مَا اسْتَقْسَمَا بِہَا قَطُّ قَالَ ثُمَّ دَخَلَ الْبَيْتَ فَكَبَّرَ فِي نَوَاحِيہِ وَفِي زَوَايَاہُ ثُمَّ خَرَجَ وَلَمْ يُصَلِّ فِيہِ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب مکہ میں تشریف لائے تو کعبہ کے اندر جانے سے انکار فرما دیا کیونکہ اس کے اندر بت رکھے ہوئے تھے۔چنانچہ آپ ﷺ نے حکم دیا اور انہیں باہر نکال دیا گیا۔ان میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا اسمعیل علیہ السلام کی تصویریں بھی تھیں جن کے ہاتھوں میں پانسے (قسمت معلوم کرنے کے تیر) دکھلائے گئے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اللہ ان پر لعنت کرے،قسم اللہ کی! انہیں خوب علم تھا کہ ان حضرات نے کبھی بھی ان سے پانسے نہیں ڈالے تھے۔‘‘ چنانچہ اس کے بعد آپ ﷺ کعبہ میں داخل ہوئے اور اس کے اطراف اور کونوں میں تکبیریں کہیں۔پھر آپ ﷺ نکل آئے اور اندر نماز نہیں پڑھی۔