Sunan Abi Dawood Hadith 2032 (سنن أبي داود)
[2032] إسنادہ ضعیف
عبد اللہ بن إنسان: لین الحدیث (تقریب: 3215)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ الْحَارِثِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ إِنْسَانٍ الطَّائِفِيِّ عَنْ أَبِيہِ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ الزُّبَيْرِ قَالَ لَمَّا أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ مِنْ لِيَّةَ حَتَّی إِذَا كُنَّا عِنْدَ السِّدْرَةِ وَقَفَ رَسُولُ اللہِ ﷺ فِي طَرَفِ الْقَرْنِ الْأَسْوَدِ حَذْوَہَا فَاسْتَقْبَلَ نَخِبًا بِبَصَرِہِ و قَالَ مَرَّةً وَادِيَہُ وَوَقَفَ حَتَّی اتَّقَفَ النَّاسُ كُلُّہُمْ ثُمَّ قَالَ إِنَّ صَيْدَ وَجٍّ وَعِضَاہَہُ حَرَامٌ مُحَرَّمٌ لِلَّہِ وَذَلِكَ قَبْلَ نُزُولِہِ الطَّائِفَ وَحِصَارِہِ لِثَقِيفٍ
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مقام لیہ سے واپس لوٹے اور سدرہ (بیری) کے پاس پہنچے تو رسول اللہ ﷺ قرن اسود کے پاس رک گئے۔یعنی اس پہاڑ کے پاس جو اس بیری کے سامنے ہے۔پھر آپ نے مقام نخب کی طرف نظر اٹھائی یا اس کی وادی کی طرف دیکھا۔آپ رکے حتیٰ کہ سب لوگ رک گئے،تب آپ ﷺ نے فرمایا ’’وادی وج کا شکار اور اس کے خار دار درخت حرام ہیں اور اللہ کی خاطر حرام کیے گئے ہیں۔‘‘ آپ ﷺ کا یہ ارشاد آپ ﷺ کے طائف جانے اور ثقیف کا محاصرہ کرنے سے پہلے کا ہے۔