Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 2037 (سنن أبي داود)

[2037] إسنادہ ضعیف

سلیمان بن أبي عبد اللہ: مقبول (تقریب: 2582) أي: ’’مجہول الحال‘‘

ولم یوثقہ غیر ابن حبان

انوار الصحیفہ ص 77، 78

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ حَدَّثَنِي يَعْلَی بْنُ حَكِيمٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللہِ قَالَ رَأَيْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ أَخَذَ رَجُلًا يَصِيدُ فِي حَرَمِ الْمَدِينَةِ الَّذِي حَرَّمَ رَسُولُ اللہِ ﷺ فَسَلَبَہُ ثِيَابَہُ فَجَاءَ مَوَالِيہِ فَكَلَّمُوہُ فِيہِ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ حَرَّمَ ہَذَا الْحَرَمَ وَقَالَ مَنْ أَخَذَ أَحَدًا يَصِيدُ فِيہِ فَلْيَسْلُبْہُ ثِيَابَہُ فَلَا أَرُدُّ عَلَيْكُمْ طُعْمَةً أَطْعَمَنِيہَا رَسُولُ اللہِ ﷺ وَلَكِنْ إِنْ شِئْتُمْ دَفَعْتُ إِلَيْكُمْ ثَمَنَہُ

سلیمان بن ابی عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے حرم مدینہ میں،جسے کہ رسول اللہ ﷺ نے حرم قرار دیا ہے،ایک آدمی کو شکار کرتے پکڑ لیا اور اس کے کپڑے چھین لیے تو اس شخص (غلام) کے مالک آئے اور اس کے بارے میں بات کی تو انہوں نے کہا: بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے اس کو حرم قرار دیا ہے اور فرمایا ہے ’’جو شخص کسی کو اس میں شکار کرتا پکڑ لے،تو وہ اس کے کپڑے ضبط کر لے۔‘‘ چنانچہ وہ غنیمت جو رسول اللہ ﷺ نے مجھے عنایت فرمائی ہے واپس نہیں کروں گا۔ہاں اگر چاہو تو اس کی قیمت دے دیتا ہوں۔