Sunan Abi Dawood Hadith 2038 (سنن أبي داود)
[2038] إسنادہ ضعیف
مولی لسعد مجھول (وانظر فتح الملک المعبود 2/ 247) ولم أجد من وثقہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ صَالِحٍ مَوْلَی التَّوْأَمَةِ عَنْ مَوْلًی لِسَعْدٍ أَنَّ سَعْدًا وَجَدَ عَبِيدًا مِنْ عَبِيدِ الْمَدِينَةِ يَقْطَعُونَ مِنْ شَجَرِ الْمَدِينَةِ فَأَخَذَ مَتَاعَہُمْ وَقَالَ يَعْنِي لِمَوَالِيہِمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَنْہَی أَنْ يُقْطَعَ مِنْ شَجَرِ الْمَدِينَةِ شَيْءٌ وَقَالَ مَنْ قَطَعَ مِنْہُ شَيْئًا فَلِمَنْ أَخَذَہُ سَلَبُہُ
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے ایک غلام سے مروی ہے کہ انہوں نے مدینہ کے کچھ غلاموں کو دیکھا کہ وہ (حرم) مدینہ میں درخت کاٹ رہے ہیں۔تو انہوں نے ان کا اسباب چھین لیا اور ان غلاموں کے مالکوں سے کہا،میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ آپ ﷺ نے مدینہ کے درختوں سے کچھ کاٹنے سے منع فرمایا ہے۔اور فرمایا ہے ’’جو کوئی ان سے کچھ کاٹے تو جو اسے پکڑ لے تو اس کا اسباب اسی کے لیے ہے (اس کے کپڑے،کلہاڑی اور رسی وغیرہ)۔‘‘