Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 2050 (سنن أبي داود)

[2050]حسن

أخرجہ النسائي (3229 وسندہ حسن) وصححہ الحاکم (2/62 وسندہ حسن) وللحدیث شواھد کثیرۃ عند ابن حبان (1228) وغیرہ مشکوۃ المصابیح (3091)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِيمَ،حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ ہَارُونَ،أَخْبَرَنَا مُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ ابْنَ أُخْتِ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ،عَنْ مَنْصُورٍ يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ،عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ،عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ،قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ،: فَقَالَ: إِنِّي أَصَبْتُ امْرَأَةً ذَاتَ حَسَبٍ وَجَمَالٍ،وَإِنَّہَا لَا تَلِدُ،أَفَأَتَزَوَّجُہَا؟ قَالَ: لَا،ثُمَّ أَتَاہُ الثَّانِيَةَ،فَنَہَاہُ،ثُمَّ أَتَاہُ الثَّالِثَةَ،فَقَالَ: تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ, فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ .

سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہا مجھے ایک عورت ملی ہے جو عمدہ حسب اور حسن و جمال والی ہے مگر اس کے اولاد نہیں ہوتی۔تو کیا میں اس سے شادی کر لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’نہیں‘‘ پھر وہ دوبارہ آیا،تو آپ ﷺ نے منع فرما دیا۔پھر وہ تیسری بار آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’ایسی عورتوں سے شادی کرو جو بہت محبت کرنے والی اور بہت بچے جننے والی ہوں۔بلاشبہ میں تمہاری کثرت سے دیگر امتوں پر فخر کرنے والا ہوں۔‘‘