Sunan Abi Dawood Hadith 2051 (سنن أبي داود)
[2051]إسنادہ حسن
أخرجہ النسائي (3230 وسندہ حسن) وحسنہ الترمذي (3177 وسندہ حسن)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا إِبْرَاہِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّيْمِيُّ،حَدَّثَنَا يَحْيَی،عَنْ عُبَيْدِ اللہِ بْنِ الْأَخْنَسِ،عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ جَدِّہِ أَنَّ مَرْثَدَ بْنَ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيَّ كَانَ يَحْمِلُ الْأَسَارَی بِمَكَّةَ،وَكَانَ بِمَكَّةَ بَغِيٌّ-يُقَالُ لَہَا: عَنَاقُ،وَكَانَتْ صَدِيقَتَہُ،قَالَ: جِئْتُ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ،فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ! أَنْكِحُ عَنَاقَ؟ قَالَ: فَسَكَتَ عَنِّي،فَنَزَلَتْ: وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُہَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ[النور: 3]،فَدَعَانِي،فَقَرَأَہَا عَلَيَّ،وَقَالَ: لَا تَنْكِحْہَا.
جناب عمرو بن شعیب اپنے والد (شعیب) سے اور وہ اپنے دادا (عبداللہ بن عمرو) سے روایت کرتے ہیں کہ جناب مرثد بن ابی مرثد غنوی رضی اللہ عنہ مکہ سے (مسلمان) قیدیوں کو اٹھا کر لایا کرتے تھے۔اور مکہ میں ایک بدکار عورت تھی جس کا نام عناق تھا اور وہ (قبل از اسلام) اس کی آشنا تھی۔وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میں عناق سے شادی کر لوں؟ آپ ﷺ نے مجھے اس کا جواب نہ دیا۔تب یہ آیت نازل ہوئی((والزانیۃ لا ینکحہا إلا زان أو مشرک)) ’’یعنی بدکار عورت سے کوئی بدکار مرد یا مشرک ہی نکاح کرتا ہے۔‘‘ آپ ﷺ نے مجھے بلوایا،مجھ پر یہ آیت پڑھی اور فرمایا ’’اس سے نکاح مت کرو۔‘‘