Sunan Abi Dawood Hadith 2058 (سنن أبي داود)
[2058]صحیح
صحیح بخاری (2647) صحیح مسلم (1455)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ،حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح،وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ،أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ،عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ مَسْرُوقٍ،عَنْ عَائِشَةَ،الْمَعْنَی وَاحِدٌ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ دَخَلَ عَلَيْہَا وَعِنْدَہَا رَجُلٌ قَالَ حَفْصٌ-فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْہِ،وَتَغَيَّرَ وَجْہُہُ،ثُمَّ اتَّفَقَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللہِ! إِنَّہُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ! فَقَالَ: انْظُرْنَ مَنْ إِخْوَانُكُنَّ! فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ان کے ہاں آئے تو دیکھا کہ ان کے پاس ایک آدمی بیٹھا ہے۔(بروایت حفص) آپ ﷺ کو یہ کیفیت ناگوار گزری اور آپ ﷺ کا چہرہ بدل گیا۔(حفص اور محمد بن کثیر دونوں کی متفقہ روایت ہے کہ) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے (وضاحت کرتے ہوئے) کہا: اے اللہ کے رسول! یہ میرا رضاعی بھائی ہے۔تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’ذرا غور کر لیا کرو،تمہارے بھائی کون ہیں۔رضاعت وہی معتبر ہے جو بھوک کی بنا پر ہو۔‘‘