Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 206 (سنن أبي داود)

[206]إسنادہ حسن

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ،حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ الْحَذَّاءُ عَنِ الرَّكِينِ بْنِ الرَّبِيعِ،عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ،عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ،قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً،فَجَعَلْتُ أَغْتَسِلُ حَتَّی تَشَقَّقَ ظَہْرِي،فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ ﷺ-أَوْ ذُكِرَ لَہُ-؟! فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: لَا تَفْعَلْ،إِذَا رَأَيْتَ الْمَذْيَ, فَاغْسِلْ ذَكَرَكَ،وَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ،فَإِذَا فَضَخْتَ الْمَاءَ, فَاغْتَسِلْ

سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے بہت زیادہ مذی آتی تھی۔میں نے (اس سے) غسل کرنا شروع کر دیا حتیٰ کہ میری کمر (کی کھال بوجہ پانی) پھٹنے لگی،تو میں نے یہ مسئلہ نبی کریم ﷺ کے سامنے پیش کیا،یا آپ ﷺ کو بتایا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’جب تو مذی کو دیکھے تو غسل نہ کیا کر بلکہ صرف اپنی شرمگاہ کو دھو اور نماز والا وضو کر لیا کر۔اور جب تو زور سے پانی نکالے (یعنی منی نکلے) تو غسل کر۔