Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 2068 (سنن أبي داود)

[2068]صحیح

صحیح بخاری (5064) صحیح مسلم (3018)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ،حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ،أَخْبَرَنِي يُونُسُ, عَنِ ابْنِ شِہَابٍ, قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ابْنُ الزُّبَيْرِ،أَنَّہُ سَأَلَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ ﷺ عَنْ قَوْلِ اللہِ تَعَالَی: وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَی فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ[النساء: 3]؟ قَالَتْ: يَا ابْنَ أُخْتِي! ہِيَ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حِجْرِ وَلِيِّہَا،فَتُشَارِكُہُ فِي مَالِہِ،فَيُعْجِبُہُ مَالُہَا وَجَمَالُہَا،فَيُرِيدُ وَلِيُّہَا أَنْ يَتَزَوَّجَہَا بِغَيْرِ أَنْ يُقْسِطَ فِي صَدَاقِہَا،فَيُعْطِيَہَا مِثْلَ مَا يُعْطِيہَا غَيْرُہُ،فَنُہُوا أَنْ يَنْكِحُوہُنَّ إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا لَہُنَّ وَيَبْلُغُوا بِہِنَّ أَعْلَی سُنَّتِہِنَّ مِنَ الصَّدَاقِ،وَأُمِرُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا طَابَ لَہُمْ مِنَ النِّسَاءِ سِوَاہُنَّ. قَالَ عُرْوَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ: ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ اسْتَفْتَوْا رَسُولَ اللہِ ﷺ بَعْدَ ہَذِہِ الْآيَةِ فِيہِنَّ؟ فَأَنْزَلَ اللہُ عَزَّ وَجَلَّ: وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللہُ يُفْتِيكُمْ فِيہِنَّ وَمَا يُتْلَی عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَی النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا تُؤْتُونَہُنَّ مَا كُتِبَ لَہُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوہُنَّ[النساء: 127]،قَالَتْ: وَالَّذِي ذَكَرَ اللہُ أَنَّہُ يُتْلَی عَلَيْہِمْ فِي الْكِتَابِ: الْآيَةُ الْأُولَی،الَّتِي قَالَ اللہُ سُبْحَانَہُ فِيہَا: وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَی فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ[النساء: 3]،قَالَتْ عَائِشَةُ: وَقَوْلُ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْآيَةِ الْآخِرَةِ: وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوہُنَّ[النساء: 127], ہِيَ رَغْبَةُ أَحَدِكُمْ عَنْ يَتِيمَتِہِ الَّتِي تَكُونُ فِي حِجْرِہِ،حِينَ تَكُونُ قَلِيلَةَ الْمَالِ وَالْجَمَالِ،فَنُہُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا رَغِبُوا فِي مَالِہَا وَجَمَالِہَا مِنْ يَتَامَی النِّسَاءِ إِلَّا بِالْقِسْطِ, مِنْ أَجْلِ رَغْبَتِہِمْ عَنْہُنَّ. قَالَ يُونُسُ وَقَالَ رَبِيعَةُ فِي قَوْلِ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ: وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَی[النساء: 3]،قَالَ: يَقُولُ: اتْرُكُوہُنَّ إِنْ خِفْتُمْ،فَقَدْ أَحْلَلْتُ لَكُمْ أَرْبَعًا.

جناب عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے مروی ہے،وہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے آیت کریمہ ((وإن خفتم ألا تقسطوا فی الیتامی فانکحوا ما طاب لکم من النساء سورۃ النساء)) کی تفسیر دریافت کی۔تو انہوں نے کہا،بھانجے میرے! یہ اس یتیم لڑکی کے متعلق ہے جو اپنے کسی ولی کی سرپرستی میں ہو اور (مالدار غنیہ ہونے کی وجہ سے) اپنے ولی کے مال میں حصہ دار بن گئی ہو۔پھر اس ولی کو اس لڑکی کا مال و جمال پسند آ جائے اور اس کی خواہش ہو کہ اس سے نکاح کر لے مگر حق مہر میں انصاف نہ کرے اور اس قدر نہ دینا چاہے جو کوئی غیر اسے دے،تو (ایسی صورت میں) ان لوگوں کو ان کے ساتھ نکاح سے منع کر دیا گیا الا یہ کہ ان سے عدل کریں اور مہر ان کے اعلیٰ معیار کے مطابق دیں (تو جائز ہے) انہیں یہ حکم دیا گیا کہ (اگر یہ اندیشہ ہو تو) ان کے علاوہ دیگر عورتوں سے نکاح کر لو جو تمہیں پسند آئیں۔عروہ نے کہا: عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر لوگوں نے اس آیت کے بعد جو ان کے بارے میں اتری تھی،رسول اللہ ﷺ سے سوالات کیے (اور رخصت چاہی) تو اللہ تعالیٰ نے یہ نازل فرمایا ((ویستفتونک فی النساء قل اللہ یفتیکم فیہن وما یتلی علیکم فی الکتاب فی یتامی النساء اللاتی لا تؤتونہن ما کتب لہن وترغبون أن تنکحوہن)) ’’اے پیغمبر! لوگ آپ سے (یتیم) عورتوں کے بارے میں فتویٰ طلب کرتے ہیں۔آپ ان سے کہیں کہ ان کے بارے میں اللہ تمہیں فتویٰ دیتا ہے اور قرآن کی وہ آیتیں بھی (وضاحت کرتی ہیں) جو تم پر ان یتیم عورتوں (لڑکیوں) کے بارے میں پڑھی جاتی ہیں جن کے مقررہ حقوق (میراث وغیرہ) تم دیتے نہیں اور ان سے نکاح کرنے کی رغبت رکھتے ہو۔‘‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ یہ جو اللہ نے ذکر کیا ہے کہ وہ تم پر کتاب میں پڑھی جاتی ہے،اس سے مراد وہ پہلے والی آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ((وإن خفتم ألا تقسطوا فی الیتامی فانکحوا ما طاب لکم من النساء)) عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ دوسری آیت میں جو آیا ہے ((وترغبون أن تنکحوہن)) اس سے مراد ’’اعراض‘‘ ہے۔یہ اعراض آدمی اپنی زیر سر پرستی یتیم لڑکی سے کرتا تھا جب کہ وہ قلیل المال ہوتی اور حسن و جمال میں بھی معیاری نہ ہوتی۔تو انہیں منع کیا گیا ہے کہ یتیم لڑکیوں کے مال و جمال کے حریص بن کر ان سے نکاح مت کرو الا یہ کہ عدل و انصاف کے تقاضے پورے کرو (اور یہ تفصیل نازل ہونے کی وجہ یہی ہے کہ لوگ ان سے اعراض کرنے لگے تھے) یونس سے بیان کیا کہ جناب ربیعہ الرای نے عربی ((وإن خفتم ألا تقسطوا فی الیتامی)) /عربی کی توضیح میں کہا کہ اللہ فرماتا ہے ’’ظلم کا اندیشہ ہو تو انہیں چھوڑ دو،میں نے تمہارے لیے چار عورتیں حلال کی ہوئی ہیں۔‘‘