Sunan Abi Dawood Hadith 2083 (سنن أبي داود)
[2083]حسن
أخرجہ الترمذي (1102 وسندہ صحیح) ابن جریج سمعہ من سلیمان بن موسٰی والزھري سمعہ من عروۃ وأعل بما لایقدح مشکوۃ المصابیح (3131)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ،أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ،أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ،عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَی عَنِ الزُّہْرِيِّ،عَنْ عُرْوَةَ،عَنْ عَائِشَةَ،قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيہَا, فَنِكَاحُہَا بَاطِلٌ-ثَلَاثَ مَرَّاتٍ-،فَإِنْ دَخَلَ بِہَا, فَالْمَہْرُ لَہَا بِمَا أَصَابَ مِنْہَا،فَإِنْ تَشَاجَرُوا, فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَہُ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا ‘ اس کا نکاح باطل ہے۔تین بار فرمایا اگر شوہر اس سے صحبت کر لے تو اس کو مہر دینا پڑے گا بسبب اس کے جو اس نے اس سے فائدہ حاصل کیا۔اگر (ولیوں کا) جھگڑا ہو جائے تو حاکم ولی ہے اس کا جس کا کوئی ولی نہ ہو۔‘‘