Sunan Abi Dawood Hadith 2100 (سنن أبي داود)
[2100]صحیح✷
أخرجہ النسائي (3265)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ،أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ،عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ،عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ: لَيْسَ لِلْوَلِيِّ مَعَ الثَّيِّبِ أَمْرٌ،وَالْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ،وَصَمْتُہَا إِقْرَارُہَا.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’ولی کو بیوہ کے معاملے میں کوئی دخل حاصل نہیں ہے۔اور یتیم لڑکی سے مشورہ کیا جائے اور اس کی خاموشی اس کا اقرار ہے۔‘‘
✷قال معاذ علي زئي: صالح بن كيسان تابعہ عبيد اللہ بن عبد الرحمن بن عبد اللہ بن موہب (وھو حسن الحدیث) عند ابن عبد البر فی التمھید (12/ 13،والاستذکار: 5/ 387) وسندہ حسن،ولفظہ: ’’الثيب أولی بأمرہا من وليہا،والبكر تستأمر،وصمتہا إقرارہا‘‘،وانظر إتحاف المھرۃ (9031،من طریق مالک بن أنس المدني) وشرح مشکل الآثار (14/ 434 ح 5736،ومعاني الآثار: 3/ 11،4/ 366)