Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 2101 (سنن أبي داود)

[2101]صحیح

صحیح بخاری (5138)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ،عَنْ مَالِكٍ،عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمُجَمِّعٍ ابْنَيْ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّيْنِ،عَنْ خَنْسَاءَ بِنْتِ خِذَامٍ الْأَنْصَارِيَّةِ،أَنَّ أَبَاہَا زَوَّجَہَا وَہِيَ ثَيِّبٌ فَكَرِہَتْ ذَلِكَ،فَجَاءَتْ رَسُولَ اللہِ ﷺ،فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَہُ،فَرَدَّ نِكَاحَہَا.

سیدہ خنساء بنت خذام انصاریہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ اس کے والد نے اس کی شادی کر دی جبکہ وہ بیوہ تھی۔اس نے یہ نکاح ناپسند کیا اور پھر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئی اور آپ ﷺ کے سامنے اس کا ذکر کیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کا نکاح رد (فسخ کر دیا) کر دیا۔