Sunan Abi Dawood Hadith 2102 (سنن أبي داود)
[2102]إسنادہ حسن
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ،حَدَّثَنَا حَمَّادٌ،حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو،عَنْ أَبِي سَلَمَةَ،عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ،أَنَّ أَبَا ہِنْدٍ حَجَمَ النَّبِيَّ ﷺ فِي الْيَافُوخِ،فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: يَا بَنِي بَيَاضَةَ! أَنْكِحُوا أَبَا ہِنْدٍ،وَأَنْكِحُوا إِلَيْہِ-وَقَالَ:-،وَإِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ مِمَّا تَدَاوُونَ بِہِ خَيْرٌ, فَالْحِجَامَةُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ابوہند نے نبی کریم ﷺ کے سر میں سینگی لگائی۔اور پھر آپ ﷺ نے فرمایا ’’اے بنی بیاضہ! ابوہند کا (اپنے میں سے کسی کے ساتھ) نکاح کر دو۔اور اس سے (اس کی کسی عزیزہ کا) نکاح لے لو۔‘‘ اور فرمایا ’’اگر تمہاری دواؤں میں سے کسی میں خیر ہے تو وہ سینگی لگانے ہی میں ہے۔‘‘