Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 2104 (سنن أبي داود)

[2104] إسنادہ ضعیف

خالۃ إبراہیم بن میسرۃ،لم أقف علی من وثقھا:’’وھي مجہولۃ‘‘ کما فی التقریب (8787)

انوار الصحیفہ ص 79

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ،أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ،أَخْبَرَنِي إِبْرَاہِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ أَنَّ خَالَتَہُ أَخْبَرَتْہُ عَنِ امْرَأَةٍ،قَالَتْ: ہِيَ مُصَدَّقَةٌ امْرَأَةُ صِدْقٍ،قَالَتْ: بَيْنَا أَبِي فِي غَزَاةٍ فِي الْجَاہِلِيَّةِ،إِذْ رَمِضُوا،فَقَالَ رَجُلٌ: مَنْ يُعْطِينِي نَعْلَيْہِ وَأُنْكِحُہُ أَوَّلَ بِنْتٍ تُولَدُ لِي؟ فَخَلَعَ أَبِي نَعْلَيْہِ،فَأَلْقَاہُمَا إِلَيْہِ،فَوُلِدَتْ لَہُ جَارِيَةٌ،فَبَلَغَتْ... وَذَكَرَ نَحْوَہُ،لَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ الْقَتِيرِ.

ابراہیم بن میسرہ نے بیان کیا کہ اس کی خالہ نے ایک خاتون سے خبر سنائی جو کمال کی سچی عورت تھی ‘ وہ بیان کرتی تھی کہ دور جاہلیت میں میرے والد ایک جنگ میں گئے۔ان لوگوں کو گرمی لگنے لگی تو ایک شخص نے کہا: کون ہے جو مجھے اپنے جوتے دیدے ‘ میں اس کا اپنی پہلی پیدا ہونے والی بیٹی سے نکاح کر دوں گا۔چنانچہ میرے باپ نے اپنے جوتے اتار کر اس کی طرف پھینک دیے۔پھر اس کے ہاں لڑکی پیدا ہوئی ‘ اور بالغ ہو گئی۔اور گزشتہ قصہ کی مانند بیان کیا مگر سفیدی ظاہر ہونے کا ذکر نہیں کیا۔