Sunan Abi Dawood Hadith 2106 (سنن أبي داود)
[2106]حسن
أخرجہ الترمذي (1114م، وسندہ حسن) مشکوۃ المصابیح (3204)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ،حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ،عَنْ أَيُّوبَ،عَنْ مُحَمَّدٍ،عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِيِّ،قَالَ: خَطَبَنَا عُمَرُ رَحِمَہُ اللہُ،فَقَالَ: أَلَا لَا تُغَالُوا بِصُدُقِ النِّسَاءِ, فَإِنَّہَا لَوْ كَانَتْ مَكْرُمَةً فِي الدُّنْيَا،أَوْ تَقْوَی عِنْدَ اللہِ, لَكَانَ أَوْلَاكُمْ بِہَا النَّبِيُّ ﷺ،مَا أَصْدَقَ رَسُولُ اللہِ ﷺ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِہِ وَلَا أُصْدِقَتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنَاتِہِ،أَكْثَرَ مِنْ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً.
ابوالعجفاء السلمی کہتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اور کہا: ’’خبردار! عورتوں کے سلسلے میں بھاری بھاری مہر مت باندھا کرو،اگر یہ چیز دنیا میں عزت اور اللہ کے ہاں تقویٰ کا ثبوت ہوتی تو اس میں نبی کریم ﷺ سب سے بڑھ کر ہوتے۔رسول اللہ ﷺ نے اپنی کسی بیوی اور اپنی صاحبزادیوں میں سے کسی کو بارہ اوقیہ سے زیادہ مہر نہیں دیا۔‘‘