Sunan Abi Dawood Hadith 2111 (سنن أبي داود)
[2111]صحیح
صحیح بخاری (2310) صحیح مسلم (1425)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَاالْقَعْنَبِيُّ،عَنْ مَالِكٍ،عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ،عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ،أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ جَاءَتْہُ امْرَأَةٌ،فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللہِ! إِنِّي قَدْ وَہَبْتُ نَفْسِي لَكَ،فَقَامَتْ قِيَامًا طَوِيلًا فَقَامَ رَجُلٌ،فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ! زَوِّجْنِيہَا إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِہَا حَاجَةٌ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ہَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ تُصْدِقُہَا إِيَّاہُ؟،فَقَالَ: مَا عِنْدِي إِلَّا إِزَارِي ہَذَا! فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: إِنَّكَ إِنْ أَعْطَيْتَہَا إِزَارَكَ, جَلَسْتَ وَلَا إِزَارَ لَكَ،فَالْتَمِسْ شَيْئًا،قَالَ: لَا أَجِدُ شَيْئًا،قَالَ: فَالْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ،فَالْتَمَسَ،فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا،فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللہِ ﷺ: فَہَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ؟،قَالَ: نَعَمْ, سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا،-لِسُوَرٍ سَمَّاہَا-،فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللہِ ﷺ: قَدْ زَوَّجْتُكَہَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ.
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئی اور کہنے لگی: اے اﷲ کے رسول! میں اپنے آپ کو آپ کی خدمت میں ہبہ کرتی ہوں ‘ اور پھر وہ بہت دیر کھڑی رہی۔تب ایک آدمی اٹھا اور کہنے لگا: اے اﷲ کے رسول! اگر آپ کو اس میں رغبت نہیں تو اس کی شادی مجھ سے کر دیجئیے۔تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’کیا تمہارے پاس کچھ ہے جو اسے مہر کے طور پر دے سکو؟ کہنے لگا میرے پاس تو بس یہ تہ بند ہی ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’تم اگر اپنا تہ بند اس کو دے دو گے تو خود تہ بند کے بغیر بیٹھ رہو گے ‘ کوئی اور چیز ڈھونڈو۔‘‘ کہنے لگا میرے پاس تو اور کچھ نہیں ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’ڈھونڈ لاؤ خواہ لوہے کا چھلہ ہی ہو۔‘‘ اس نے تلاش کیا مگر اسے کچھ نہ ملا۔تب رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا ’’کیا تمہیں قرآن سے کچھ یاد ہے؟‘‘ کہنے لگا ہاں،فلاں فلاں سورتیں۔اس نے ان کے نام لیے۔تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اس قرآن کے عوض ‘ جو تمہیں یاد ہے ‘ میں اس کا نکاح تمہارے ساتھ کرتا ہوں۔‘‘