Sunan Abi Dawood Hadith 2118 (سنن أبي داود)
[2118] إسنادہ ضعیف
ترمذی (1105) نسائی (1405،3279) ابن ماجہ (1892)
أبو عبیدۃ عن ابن مسعود منقطع
وأبو إسحاق السبیعي مدلس وعنعن
ورواہ شعبۃ عن أبي إسحاق عن أبی الأحوص عند أحمد (1/ 393) مبترًا سندہ فالسند معلول
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ،أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ،عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ،عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ،فِي خُطْبَةِ الْحَاجَةِ فِي النِّكَاحِ وَغَيْرِہِ ح،وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ الْمَعْنَی،حَدَّثَنَا وَكِيعٌ،عَنْ إِسْرَائِيلَ،عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ،عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ وَأَبِي عُبَيْدَةَ،عَنْ عَبْدِ اللہِ،قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللہِ ﷺ خُطْبَةَ الْحَاجَةِ: أَنِ: الْحَمْدُ لِلَّہِ،نَسْتَعِينُہُ وَنَسْتَغْفِرُہُ،وَنَعُوذُ بِہِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا،مَنْ يَہْدِ اللہُ فَلَا مُضِلَّ لَہُ،وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا ہَادِيَ لَہُ،وَأَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ،وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ،يَا أَيُّہَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللہَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِہِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللہَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا[النساء: 1]،يَا أَيُّہَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللہَ حَقَّ تُقَاتِہِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ[آل عمران: 102]،يَا أَيُّہَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا. يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللہَ وَرَسُولَہُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا[الأحزاب: 70-71]. لَمْ يَقُلْ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَنْ.
سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ حاجت تعلیم فرمایا وہ یہ کہ ((إن الحمد للہ نستعینہ ونستغفرہ ونعوذ بہ من شرور أنفسنا من یہد اللہ فلا مضل لہ ومن یضلل فلا ہادی لہ وأشہد أن لا إلہ إلا اللہ وأشہد أن محمدا عبدہ ورسولہ)) ’’تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔ہم اسی سے مدد چاہتے ہیں۔اور (اپنے گناہوں کی) معافی چاہتے ہیں اور اپنے نفسوں کی شرارتوں سے اس کی پناہ چاہتے ہیں۔جسے وہ راہ حق سجھا دے کوئی اسے گمراہ نہیں کر سکتا،اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کے لیے کوئی راہنما نہیں ہو سکتا۔اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ عزوجل کے سوا اور کوئی معبود برحق نہیں۔اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (ﷺ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔‘‘ ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو جس کے واسطے سے تم سوال کرتے ہو،اور رشتے ناتے (توڑنے) سے بچو،بلاشبہ اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے۔“ ’’اے ایمان والو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اس سے ڈرو جیسے کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تم پر موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔‘‘ ’’اے ایمان والو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور بات ہمیشہ صاف سیدھی کیا کرو۔اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال درست فرما دے گا،تمہاری خطائیں معاف کر دے گا،اور جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کر لی بلاشبہ وہ عظیم کامیابی سے ہمکنار ہوا۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ محمد بن سلیمان نے (شروع روایت میں) لفظ ((أن)) ذکر نہیں کیا۔