Sunan Abi Dawood Hadith 2119 (سنن أبي داود)
[2119] إسنادہ ضعیف
قتادۃ عنعن
و أبو عیاض:مجہول
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ،حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ،حَدَّثَنَا عِمْرَانُ،عَنْ قَتَادَةَ،عَنْ عَبْدِ رَبِّہِ،عَنْ أَبِي عِيَاضٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ... أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ كَانَ إِذَا تَشَہَّدَ ذَكَرَ نَحْوَہُ وَقَالَ بَعْدَ قَوْلِہِ وَرَسُولُہُ أَرْسَلَہُ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا،بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ،مَنْ يُطِعِ اللہَ وَرَسُولَہُ, فَقَدْ رَشَدَ،وَمَنْ يَعْصِہِمَا, فَإِنَّہُ لَا يَضُرُّ إِلَّا نَفْسَہُ،وَلَا يَضُرُّ اللہَ شَيْئًا.
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب خطبہ پڑھتے،تو گزشتہ حدیث کے مثل ذکر کیا۔اور ((محمدا عبدہ ورسولہ)) کے بعد یہ کہتے ((أرسلہ بالحق بشیرا ونذیرا بین یدی الساعۃ،من یطع اللہ ورسولہ فقد رشد،ومن یعصہما فإنہ لا یضر إلا نفسہ ولا یضر اللہ شیئا)) ’’اللہ نے ان کو حق دے کر خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا کہ قیامت سے پہلے پہلے لوگوں کو متنبہ کر دیں۔جس نے بھی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی وہ یقیناً ہدایت پا گیا اور جس نے ان کی نافرمانی کی اس نے اپنا ہی نقصان کیا،وہ اللہ کا کوئی نقصان نہیں کر سکتا۔‘‘