Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 2142 (سنن أبي داود)

[2142]إسنادہ صحیح

أخرجہ ابن ماجہ (1850 وسندہ حسن) مشکوۃ المصابیح (3259)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ،حَدَّثَنَا حَمَّادٌ،أَخْبَرَنَا أَبُو قَزَعَةَ الْبَاہِلِيُّ،عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْقُشَيْرِيِّ،عَنْ أَبِيہِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ! مَا حَقُّ زَوْجَةِ أَحَدِنَا عَلَيْہِ؟ قَالَ: أَنْ تُطْعِمَہَا إِذَا طَعِمْتَ،وَتَكْسُوَہَا إِذَا اكْتَسَيْتَ-أَوِ اكْتَسَبْتَ-،وَلَا تَضْرِبِ الْوَجْہَ،وَلَا تُقَبِّحْ،وَلَا تَہْجُرْ, إِلَّا فِي الْبَيْتِ. قَالَ أَبو دَاود: وَلَا تُقَبِّحْ: أَنْ تَقُولَ: قَبَّحَكِ اللہُ.

جناب حکیم بن معاویہ قشیری اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم پر بیوی کے کیا حقوق ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’جب تو کھائے تو اسے کھلائے،جب تو پہنے تو اسے پہنائے۔‘‘ یا یوں کہا: ’’جب کما کر لائے (تو اسے پہنائے) اور چہرے پر نہ مار،برا نہ بول اور اس سے جدا نہ ہو مگر گھر میں۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں ((ولا تقبح)) کے معنی ہیں ’’یوں مت کہو کہ اللہ تجھے قبیح بنا دے۔‘‘