Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 2143 (سنن أبي داود)

[2143]إسنادہ حسن

انظر الحدیث السابق (2142)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ،حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ،حَدَّثَنَا بَہْزُ بْنُ حَكِيمٍ،حَدَّثَنِي أَبِي،عَنْ جَدِّي قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ! نِسَاؤُنَا, مَا نَأْتِي مِنْہُنَّ وَمَا نَذَرُ؟ قَالَ: ائْتِ حَرْثَكَ أَنَّی شِئْتَ،وَأَطْعِمْہَا إِذَا طَعِمْتَ،وَاكْسُہَا إِذَا اكْتَسَيْتَ،وَلَا تُقَبِّحِ الْوَجْہَ،وَلَا تَضْرِبْ. قَالَ أَبو دَاود: رَوَی شُعْبَةُ تُطْعِمُہَا إِذَا طَعِمْتَ،وَتَكْسُوہَا إِذَا اكْتَسَيْتَ.

بہز بن حکیم اپنے والد (حکیم) سے،وہ (ان کے) دادا (معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم اپنی بیویوں سے کس طرح فائدہ اٹھائیں اور کیا چھوڑیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’اپنی کھیتی کو آ جیسے تو چاہے،اسے کھلا جب تو کھائے،اسے پہنا جب تو پہنے،چہرے کے قبیح ہونے کی بد دعا (یا گالی) نہ دے اور (منہ پر) مت مار۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شعبہ کی روایت میں ہے عربی ((طعمہا إذا طعمت وتکسوہا إذا اکتسیت)) /عربی۔