Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 2152 (سنن أبي داود)

[2152]صحیح

صحیح بخاری (6243) صحیح مسلم (2657)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ،حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْرٍ،عَنْ مَعْمَرٍ،أَخْبَرَنَا ابْنُ طَاوُسٍ،عَنْ أَبِيہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،قَالَ: مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَشْبَہَ بِاللَّمَمِ مِمَّا قَالَ أَبُو ہُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ: إِنَّ اللہَ كَتَبَ عَلَی ابْنِ آدَمَ حَظَّہُ مِنَ الزِّنَا،أَدْرَكَ ذَلِكَ لَا مَحَالَةَ, فَزِنَا الْعَيْنَيْنِ النَّظَرُ،وَزِنَا اللِّسَانِ الْمَنْطِقُ،وَالنَّفْسُ تَمَنَّی وَتَشْتَہِي،وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ وَيُكَذِّبُہُ.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ((لمم)) (چھوٹے موٹے گناہوں) کی تفسیر میں،میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے بڑھ کر اور کوئی چیز نہیں دیکھی۔سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں ’’اللہ تعالیٰ نے ابن آدم پر زنا سے اس کا حصہ لکھ دیا ہے جسے وہ پا کر رہے گا۔تو آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے،زبان کا زنا بولنا ہے،اور دل تمنا اور خواہش کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔‘‘