Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 2156 (سنن أبي داود)

[2156]صحیح

صحیح مسلم (1441)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ،حَدَّثَنَا مِسْكِينٌ،حَدَّثَنَا شُعْبَةُ،عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ،عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ،أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ كَانَ فِي غَزْوَةٍ فَرَأَی امْرَأَةً مُجِحًّا،فَقَالَ: لَعَلَّ صَاحِبَہَا أَلَمَّ بِہَا؟!،قَالُوا: نَعَمْ،فَقَالَ: لَقَدْ ہَمَمْتُ أَنْ أَلْعَنَہُ لَعْنَةً تَدْخُلُ مَعَہُ فِي قَبْرِہِ،كَيْفَ يُوَرِّثُہُ وَہُوَ لَا يَحِلُّ لَہُ؟ وَكَيْفَ يَسْتَخْدِمُہُ وَہُوَ لَا يَحِلُّ لَہُ؟.

سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک غزوے میں ایک عورت دیکھی جس کا حمل تقریباً پورے دنوں کا تھا۔تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’شاید اس کے مالک نے اس سے مباشرت کی ہے؟‘‘ انہوں نے کہا: جی ہاں۔آپ نے فرمایا ’’میں نے ارادہ کیا ہے کہ اسے لعنت کروں ایسی لعنت جو اس کی قبر تک اس کے ساتھ جائے۔یہ اس بچے کو کس طرح اپنا وارث بنا سکے گا جبکہ اس کے لیے یہ حلال نہیں (کہ غیر کے نطفے اور غیر کے بچے کو اپنا بچہ بنائے) اور کیونکر اس سے (غلاموں کی طرح) خدمت لے سکے گا جبکہ یہ اس کے لیے حلال نہیں۔‘‘ (اگر بالفرض اس کا اپنا نطفہ ہوا اور اپنے بیٹے کے نسب کا انکار کیا تو یہ حرام ہے۔اور پھر بیٹے کو غلام اور خادم کے درجے پر اتارنا کیونکر جائز ہے)۔