Sunan Abi Dawood Hadith 2159 (سنن أبي داود)
[2159]حسن
انظر الحدیث السابق (2158) مشکوۃ المصابیح (4019)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَاسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ،حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ بِہَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: حَتَّی يَسْتَبْرِئَہَا بِحَيْضَةٍ. زَادَ فِيہِ بِحَيْضَةٍ وَہُوَ وَہْمٌ مِنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَہُوَ صَحِيحٌ فِي حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ زَادَ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَرْكَبْ دَابَّةً مِنْ فَيْءِ الْمُسْلِمِينَ،حَتَّی إِذَا أَعْجَفَہَا رَدَّہَا فِيہِ،وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَلْبَسْ ثَوْبًا مِنْ فَيْءِ الْمُسْلِمِينَ،حَتَّی إِذَا أَخْلَقَہُ رَدَّہُ فِيہِ. قَالَ أَبو دَاود: الْحَيْضَةُ لَيْسَتْ بِمَحْفُوظَةٍ وَہُوَ وَہْمٌ مِنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ.
سعید بن منصور،ابومعاویہ سے وہ ابن اسحٰق سے یہ حدیث بیان کرتے ہیں،کہا کہ ’’حتیٰ کہ ایک حیض سے اس کا استبراء (رحم صاف) نہ کر لے۔‘‘ اس میں ((بحیضۃ)) کا لفظ زیادہ کیا جو کہ ابومعاویہ کا وہم ہے مگر ابوسعید کی روایت میں صحیح ہے۔اور اس میں مزید یہ ہے ’’جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ مسلمانوں کے مال غنیمت کے جانوروں میں سے کسی پر سوار نہ ہو کہ جب اسے کمزور کر دے تو اسے واپس کر دے۔اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ مسلمانوں کے مال غنیمت کے کپڑوں میں سے کوئی کپڑا نہ پہنے کہ جب اسے پرانا کر دے تو واپس کر دے۔) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ((الحیضۃ)) کا لفظ محفوظ نہیں ہے اور یہ ابومعاویہ کہ وہم ہے۔