Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 2172 (سنن أبي داود)

[2172]صحیح

صحیح بخاری (2542) صحیح مسلم (1438)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ،عَنْ مَالِكٍ،عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ،عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَی بْنِ حَبَّانَ عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ،قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَرَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ،فَجَلَسْتُ إِلَيْہِ،فَسَأَلْتُہُ عَنِ الْعَزْلِ؟ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ فِي غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ،فَأَصَبْنَا سَبْيًا مِنْ سَبْيِ الْعَرَبِ،فَاشْتَہَيْنَا النِّسَاءَ،وَاشْتَدَّتْ عَلَيْنَا الْعُزْبَةُ،وَأَحْبَبْنَا الْفِدَاءَ،فَأَرَدْنَا أَنْ نَعْزِلَ،ثُمَّ قُلْنَا: نَعْزِلُ،وَرَسُولُ اللہِ ﷺ بَيْنَ أَظْہُرِنَا،قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَہُ عَنْ ذَلِكَ! فَسَأَلْنَاہُ،عَنْ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: مَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا؟ مَا مِنْ نَسَمَةٍ كَائِنَةٍ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ, إِلَّا وَہِيَ كَائِنَةٌ.

ابن محیریز کہتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو ان کے پاس بیٹھ گیا۔میں نے ان سے عزل کے بارے میں پوچھا،تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ بنی مصطلق میں گئے اور ہمیں اس غزوے میں لونڈیاں ہاتھ آئیں،عرب عورتیں،ہمیں عورتوں کی بہت خواہش تھی،اور عورتوں کے بغیر (مجرد) رہنا ہمیں بہت مشکل ہو رہا تھا۔اور ہم ان لونڈیوں کو بیچنا بھی چاہتے تھے (اس لیے چاہتے تھے کہ حاملہ نہ ہوں) تو ہم نے عزل کا ارادہ کیا۔پھر ہم نے سوچا کہ رسول اللہ ﷺ ہم میں موجود ہیں،ان سے پوچھے بغیر ہم یہ کام کریں (کسی طرح جائز نہیں۔) چنانچہ ہم نے آپ سے اس بارے میں پوچھا،تو آپ نے فرمایا ’’اگر نہ کرو تو تم پر کوئی حرج نہیں،قیامت تک جو جان بھی پیدا ہونے والی ہے،وہ پیدا ہو کر رہے گی۔‘‘