Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 2174 (سنن أبي داود)

[2174] إسنادہ ضعیف

انظر الحدیث الآتي (4019)

شیخ من طفاوۃ: لا یعرف (تقریب: 8500)

ولبعض الحدیث شواہد

انوار الصحیفہ ص 82

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا بِشْرٌ،حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ح،وحَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ،حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ح،وحَدَّثَنَا مُوسَی،حَدَّثَنَا حَمَّادٌ كُلُّہُمْ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ،عَنْ أَبِي نَضْرَةَ،حَدَّثَنِي شَيْخٌ مِنْ طُفَاوَةَ،قَالَ: تَثَوَّيْتُ أَبَا ہُرَيْرَةَ بِالْمَدِينَةِ،فَلَمْ أَرَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ أَشَدَّ تَشْمِيرًا،وَلَا أَقْوَمَ عَلَی ضَيْفٍ مِنْہُ،فَبَيْنَمَا أَنَا عِنْدَہُ يَوْمًا،وَہُوَ عَلَی سَرِيرٍ لَہُ،وَمَعَہُ كِيسٌ فِيہِ حَصًی-أَوْ نَوًی-،وَأَسْفَلَ مِنْہُ جَارِيَةٌ لَہُ سَوْدَاءُ،وَہُوَ يُسَبِّحُ بِہَا،حَتَّی إِذَا أَنْفَدَ مَا فِي الْكِيسِ أَلْقَاہُ إِلَيْہَا،فَجَمَعَتْہُ،فَأَعَادَتْہُ فِي الْكِيسِ،فَدَفَعَتْہُ إِلَيْہِ،فَقَالَ: أَلَا أُحَدِّثُكَ عَنِّي،وَعَنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلَی،قَالَ: بَيْنَا أَنَا أُوعَكُ فِي الْمَسْجِدِ, إِذْ جَاءَ رَسُولُ اللہِ ﷺ،حَتَّی دَخَلَ الْمَسْجِدَ،فَقَالَ: مَنْ أَحَسَّ الْفَتَی الدَّوْسِيَّ؟-ثَلَاثَ مَرَّاتٍ-،فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللہِ! ہُوَ ذَا يُوعَكُ فِي جَانِبِ الْمَسْجِدِ فَأَقْبَلَ يَمْشِي حَتَّی انْتَہَی إِلَيَّ،فَوَضَعَ يَدَہُ عَلَيَّ،فَقَالَ لِي مَعْرُوفًا،فَنَہَضْتُ،فَانْطَلَقَ يَمْشِي،حَتَّی أَتَی مَقَامَہُ الَّذِي يُصَلِّي فِيہِ،فَأَقْبَلَ عَلَيْہِمْ،وَمَعَہُ صَفَّانِ مِنْ رِجَالٍ،وَصَفٌّ مِنْ نِسَاءٍ،أَوْ صَفَّانِ مِنْ نِسَاءٍ،وَصَفٌّ مِنْ رِجَالٍ،فَقَالَ: إِنْ أَنْسَانِي الشَّيْطَانُ شَيْئًا مِنْ صَلَاتِي, فَلْيُسَبِّحِ الْقَوْمُ،وَلْيُصَفِّقِ النِّسَاءُ،قَالَ: فَصَلَّی رَسُولُ اللہِ ﷺ وَلَمْ يَنْسَ مِنْ صَلَاتِہِ شَيْئًا،فَقَالَ: مَجَالِسَكُمْ،مَجَالِسَكُمْ،زَادَ مُوسَی ہَا ہُنَا،ثُمَّ حَمِدَ اللہَ تَعَالَی،وَأَثْنَی عَلَيْہِ ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ-ثُمَّ اتَّفَقُوا-،ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَی الرِّجَالِ،فَقَالَ: ہَلْ مِنْكُمُ الرَّجُلُ إِذَا أَتَی أَہْلَہُ فَأَغْلَقَ عَلَيْہِ بَابَہُ،وَأَلْقَی عَلَيْہِ سِتْرَہُ،وَاسْتَتَرَ بِسِتْرِ اللہِ؟ قَالُوا: نَعَمْ،قَالَ: ثُمَّ يَجْلِسُ بَعْدَ ذَلِكَ،فَيَقُولُ: فَعَلْتُ كَذَا،فَعَلْتُ كَذَا،قَالَ: فَسَكَتُوا! قَالَ: فَأَقْبَلَ عَلَی النِّسَاءِ،فَقَالَ: ہَلْ مِنْكُنَّ مَنْ تُحَدِّثُ؟،فَسَكَتْنَ،فَجَثَتْ فَتَاةٌ قَالَ مُؤَمَّلٌ فِي حَدِيثِہِ فَتَاةٌ كَعَابٌ عَلَی إِحْدَی رُكْبَتَيْہَا،وَتَطَاوَلَتْ لِرَسُولِ اللہِ ﷺ لِيَرَاہَا! وَيَسْمَعَ كَلَامَہَا،فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللہِ! إِنَّہُمْ لَيَتَحَدَّثُونَ،وَإِنَّہُنَّ لَيَتَحَدَّثْنَہُ! فَقَالَ: ہَلْ تَدْرُونَ مَا مَثَلُ ذَلِكَ؟،فَقَالَ: إِنَّمَا مَثَلُ ذَلِكَ مَثَلُ شَيْطَانَةٍ لَقِيَتْ شَيْطَانًا فِي السِّكَّةِ،فَقَضَی مِنْہَا حَاجَتَہُ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَيْہِ،أَلَا وَإِنَّ طِيبَ الرِّجَالِ مَا ظَہَرَ رِيحُہُ،وَلَمْ يَظْہَرْ لَوْنُہُ،أَلَا إِنَّ طِيبَ النِّسَاءِ مَا ظَہَرَ لَوْنُہُ وَلَمْ يَظْہَرْ رِيحُہُ. قَالَ أَبو دَاود: وَمِنْ ہَا ہُنَا حَفِظْتُہُ،عَنْ مُؤَمَّلٍ وَمُوسَی أَلَا لَا يُفْضِيَنَّ رَجُلٌ إِلَی رَجُلٍ،وَلَا امْرَأَةٌ إِلَی امْرَأَةٍ, إِلَّا إِلَی وَلَدٍ،أَوْ وَالِدٍ. وَذَكَرَ ثَالِثَةً فَأُنْسِيتُہَا وَہُوَ فِي حَدِيثِ مُسَدَّدٍ وَلَكِنِّي لَمْ أُتْقِنْہُ كَمَا أُحِبُّ و قَالَ مُوسَی،حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ،عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنِ الطُّفَاوِيِّ.

ابونضرہ بیان کرتے ہیں کہ قبیلہ طفاوہ کے ایک شیخ نے مجھ سے بیان کیا کہ میں مدینے میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا مہمان ہوا۔وہ اصحاب نبی کریم ﷺ میں سب سے بڑھ کر عبادت میں مستعد اور مہمان نواز تھے۔ایک دن میں ان کے پاس تھا جب کہ وہ اپنے تخت پر بیٹھے تھے اور ان کے پاس ایک تھیلی تھی،اس میں کنکریاں تھیں یا گٹھلیاں،تخت سے نیچے ان کی لونڈی بیٹھی تھی سیاہ رنگ کی،آپ ان کنکریوں یا گٹھلیوں پر تسبیح پڑھ رہے تھے۔جب وہ ختم ہو جاتی تو وہ اسے اس کی طرف پھینک دیتے اور وہ انہیں اکٹھی کر کے پھر سے تھیلی میں بھر کر ان کو دے دیتی۔سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تمہیں اپنی اور رسول اللہ ﷺ کی بات نہ سناؤں،میں نے کہا: کیوں نہیں! کہا: ایک دفعہ میں بخار میں مبتلا مسجد میں پڑا تھا کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے حتیٰ کہ مسجد میں داخل ہوئے اور پوچھا ’’کسی کو دوسی جوان کی خبر ہے؟‘‘ (دوس سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قبیلے کا نام ہے) آپ ﷺ نے تین بار پوچھا،تو ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ مسجد کے کونے میں ہے اور بخار میں پھنک رہا ہے۔آپ ﷺ چلتے ہوئے ہوئے میرے پاس تشریف لائے اور اپنا ہاتھ مبارک مجھ پر رکھا اور میرے بارے میں اچھی بات فرمائی،تو میں اٹھ بیٹھا۔اور آپ ﷺ چلتے ہوئے اپنی جائے نماز پر آ گئے اور نمازیوں کی طرف متوجہ ہوئے۔آپ ﷺ کے ساتھ دو صفیں مردوں کی تھیں اور ایک صف عورتوں کی یا دو صفیں عورتوں کی اور ایک مردوں کی۔پس آپ ﷺ نے فرمایا ’’اگر شیطان مجھے میری نماز بھلوا دے تو مرد سبحان اللہ کہیں اور عورتیں تالی سے متنبہ کریں۔‘‘ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھائی اور نماز سے کچھ نہ بھولے۔پھر فرمایا ’’اپنی اپنی جگہ بیٹھے رہو۔اپنی اپنی جگہ بیٹھے رہو‘‘ موسیٰ نے یہاں اضافہ کیا اور کہا: پھر آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان فرمائی۔پھر کہا: امابعد! اور مردوں کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: ’’کیا تم میں کوئی ہے کہ جب اپنی بیوی کے پاس جائے،اس پر دروازہ بند کر لے،اس پر پردہ ڈال دے اور اللہ کے پردے سے چھپ جائے؟‘‘ سب نے کہا: جی ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا ’’پھر وہ بیٹھا کہنے لگتا ہے میں نے ایسے کیا،میں نے ایسے کیا۔‘‘ تو سب خاموش رہے۔پھر آپ ﷺ عورتوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا ’’کیا تم میں کوئی ہے جو یہ باتیں بیان کرتی ہو؟‘‘ تو وہ خاموش رہیں۔مگر ایک نوجوان عورت،اپنے ایک گھٹنے پر اٹھی۔مومل نے اپنی روایت میں کہا کہ اس کا سینہ ابھرا ہوا تھا۔اس نے رسول اللہ ﷺ کی طرف گردن لمبی کی تاکہ آپ ﷺ اس کو دیکھ لیں اور اس کی بات سنیں۔وہ بولی،اے اللہ کے رسول! یقیناً یہ مرد باتیں کرتے ہیں اور یہ عورتیں بھی باتیں کرتی ہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’کیا جانتے ہو اس کی کیا مثال ہے؟‘‘ پھر فرمایا ’’اس کی مثال اس شیطان عورت کی سی ہے جسے گلی میں کوئی شیطان مرد مل جائے اور وہ اس سے اپنی حاجت پوری کرے اور لوگ اس کی طرف دیکھ رہے ہوں۔خبردار! مردوں کی خوشبو یہ ہے کہ اس کی خوشبو ظاہر ہو مگر رنگ ظاہر نہ ہو اور عورتوں کی خوشبو یہ ہے کہ اس کا رنگ نمایاں ہو مگر خوشبو ظاہر نہ ہو۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں اس مقام پر مجھے مومل اور موسیٰ سے یاد ہے۔(آپ ﷺ نے فرمایا) ’’خبردار! کوئی مرد کسی مرد کے ساتھ نہ لیٹے یا کوئی عورت کسی عورت کے ساتھ نہ لیٹے،الا یہ کہ بیٹا ہو یا باپ۔‘‘ اور تیسری بات بھی ذکر کی جو مجھے بھول گئی ہے اور وہ مسدد کی روایت میں ہے مگر وہ مجھے کما حقہ یاد نہیں ہے۔موسیٰ نے اپنی سند میں کہا: عربی ((حدثنا حماد عن الجریری عن أبی نضرۃ عن الطفاوی)) /عربی۔