Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 2179 (سنن أبي داود)

[2179]صحیح

صحیح بخاری (5251) صحیح مسلم (1471)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَاالْقَعْنَبِيُّ،عَنْ مَالِكٍ،عَنْ نَافِعٍ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ،أَنَّہُ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ-وَہِيَ حَائِضٌ-عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ ﷺ،فَسَأَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَسُولَ اللہِ ﷺ عَنْ ذَلِكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: مُرْہُ فَلْيُرَاجِعْہَا،ثُمَّ لِيُمْسِكْہَا،حَتَّی تَطْہُرَ،ثُمَّ تَحِيضَ،ثُمَّ تَطْہُرَ،ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ بَعْدَ ذَلِكَ،وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ،فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللہُ سُبْحَانَہُ أَنْ تُطَلَّقَ لَہَا النِّسَاءُ.

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اپنی بیوی کو طلاق دے دی جبکہ وہ ایام حیض میں تھی۔سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’اس کو حکم دو کہ اس سے رجوع کرے،پھر اس کو اپنے ہاں رکھے حتیٰ کہ وہ پاک ہو،پھر اسے حیض آئے،پھر پاک ہو،پھر اگر چاہے تو اسے بیوی بنائے رکھے یا چاہے تو طلاق دیدے (مگر) مباشرت سے پہلے اور یہی وہ عدت ہے جس کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے۔‘‘