Sunan Abi Dawood Hadith 2182 (سنن أبي داود)
[2182]صحیح
صحیح بخاری (7160) صحیح مسلم (1471)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ،حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ،حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ،أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللہِ،عَنْ أَبِيہِ أَنَّہُ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ وَہِيَ حَائِضٌ،فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِرَسُولِ اللہِ ﷺ،فَتَغَيَّظَ رَسُولُ اللہِ ﷺ،ثُمَّ قَالَ: مُرْہُ فَلْيُرَاجِعْہَا،ثُمَّ لِيُمْسِكْہَا،حَتَّی تَطْہُرَ،ثُمَّ تَحِيضَ فَتَطْہُرَ،ثُمَّ إِنْ شَاءَ طَلَّقَہَا طَاہِرًا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ،فَذَلِكَ الطَّلَاقُ لِلْعِدَّةِ كَمَا أَمَرَ اللہُ عَزَّ وَجَلَّ.
سالم بن عبداللہ اپنے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی جبکہ وہ حیض سے تھی۔سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا۔رسول اللہ ﷺ ناراض ہوئے پھر فرمایا ’’اسے حکم دو کہ اس سے رجوع کرے،پھر اسے روکے رکھے حتیٰ کہ وہ پاک ہو جائے،پھر اسے حیض آئے اور پاک ہو۔تب اگر چاہے تو اسے طلاق دے جبکہ وہ پاک ہو،مباشرت سے پہلے۔یہی وہ عدت کے موقع پر طلاق ہے،جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔‘‘