Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 2184 (سنن أبي داود)

[2184]صحیح

صحیح بخاری (5333) صحیح مسلم (1471)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ،حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاہِيمَ،عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ،حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ جُبَيْرٍ،قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللہِ بْنَ عُمَرَ،قَالَ: قُلْتُ: رَجُلٌ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ وَہِيَ حَائِضٌ؟ قَالَ: أَتَعْرِفُ عَبْدَ اللہِ بْنَ عُمَرَ؟! قُلْتُ: نَعَمْ! قَالَ: فَإِنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ وَہِيَ حَائِضٌ،فَأَتَی عُمَرُ النَّبِيَّ ﷺ فَسَأَلَہُ،فَقَالَ: مُرْہُ فَلْيُرَاجِعْہَا،ثُمَّ لِيُطَلِّقْہَا فِي قُبُلِ عِدَّتِہَا،قَالَ: قُلْتُ: فَيَعْتَدُّ بِہَا؟ قَالَ: فَمَہْ, أَرَأَيْتَ إِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ؟!.

یونس بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی جبکہ وہ ایام حیض میں تھی۔تو انہوں نے کہا: تم ابن عمر کو جانتے ہو؟ میں نے کہا: ہاں۔انہوں نے کہا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو اس کے حیض کے دنوں میں طلاق دے دی۔تو عمر رضی اللہ عنہ،نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور ان سے دریافت کیا،تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’اسے حکم دو کہ اس سے رجوع کرے،پھر عدت کے شروع میں طلاق دے۔‘‘ یونس کہتے ہیں: میں نے کہا: کیا یہ طلاق شمار ہو گی؟ کہا: تو اور کیا؟ بھلا اگر وہ عاجز رہے (کہ صحیح حکم نہ معلوم کر سکے) یا احمق پن کا اظہار کرے (غلط طریقے سے طلاق دیدے؟ تو کیا اس کی یہ طلاق لغو جائے گی؟)۔