Sunan Abi Dawood Hadith 2185 (سنن أبي داود)
[2185]صحیح
صحیح مسلم (1471)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ،أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ،أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ،أَنَّہُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَيْمَنَ-مَوْلَی عُرْوَةَ-،يَسْأَلُ ابْنَ عُمَرَ،وَأَبُو الزُّبَيْرِ يَسْمَعُ،قَالَ: كَيْفَ تَرَی فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ حَائِضًا؟ قَالَ: طَلَّقَ عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ امْرَأَتَہُ وَہِيَ حَائِضٌ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ ﷺ،فَسَأَلَ عُمَرُ رَسُولَ اللہِ ﷺ فَقَالَ: إِنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ وَہِيَ حَائِضٌ،قَالَ عَبْدُ اللہِ: فَرَدَّہَا عَلَيَّ،وَلَمْ يَرَہَا شَيْئًا،وَقَالَ: إِذَا طَہُرَتْ فَلْيُطَلِّقْ أَوْ لِيُمْسِكْ،قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَقَرَأَ النَّبِيُّ ﷺ: يَا أَيُّہَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوہُنَّ[الطلاق: 1], فِي قُبُلِ عِدَّتِہِنَّ. قَالَ أَبو دَاود: رَوَی ہَذَا الْحَدِيثَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ يُونُسُ بْنُ جُبَيْرٍ وَأَنَسُ بْنُ سِيرِينَ وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَزَيْدُ ابْنُ أَسْلَمَ وَأَبُو الزُّبَيْرِ وَمَنْصُورٌ،عَنْ أَبِي وَائِلٍ مَعْنَاہُمْ كُلُّہُمْ،أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ أَمَرَہُ أَنْ يُرَاجِعَہَا حَتَّی تَطْہُرَ ثُمَّ إِنْ شَاءَ طَلَّقَ وَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَ وَكَذَلِكَ رَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَأَمَّا رِوَايَةُ الزُّہْرِيِّ،عَنْ سَالِمٍ وَنَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ،أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ أَمَرَہُ أَنْ يُرَاجِعَہَا حَتَّی تَطْہُرَ ثُمَّ تَحِيضَ ثُمَّ تَطْہُرَ ثُمَّ إِنْ شَاءَ طَلَّقَ وَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَ وَرُوِيَ،عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ نَحْوَ رِوَايَةِ نَافِعٍ وَالزُّہْرِيِّ وَالْأَحَادِيثُ كُلُّہَا عَلَی خِلَافِ مَا قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ.
عبدالرحمٰن بن ایمن مولیٰ عروہ نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا اور ابوالزبیر سن رہے تھے،کہا کہ آپ کا اس شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جس نے اپنی بیوی کو حیض کے دنوں میں طلاق دی ہو؟ انہوں نے کہا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اپنی بیوی کو حیض کے دنوں میں طلاق دے دی تھی۔تو عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ عبداللہ بن عمر نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے حالانکہ وہ حیض سے ہے۔تو عبداللہ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے اس بیوی کو مجھ پر لوٹا دیا اور اسے کچھ نہ سمجھا۔اور فرمایا ’’جب یہ پاک ہو جائے تو پھر طلاق دے یا روک لے۔‘‘ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے (اس طرح) پڑھا ((یا أیہا النبی إذا طلقتم النساء فطلقوہن فی قبل عدتہن)) ’’اے نبی! جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دینا چاہو تو انہیں ان کی عدت کے شروع میں طلاق دو۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس روایت کو یونس بن جبیر،انس بن سیرین،سعید بن جبیر،زید بن اسلم،ابوالزبیر اور منصور بواسطہ ابووائل نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔اور ان سب کی روایات کا مفہوم ایک ہی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اسے حکم دیا کہ رجوع کر لو حتیٰ کہ وہ پاک ہو جائے،پھر چاہو تو طلاق دے دو چاہو تو روک لو۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ایسے ہی محمد بن عبدالرحمٰن نے بواسطہ سالم،ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔لیکن زہری (بواسطہ سالم) اور نافع کی روایات جو ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ہیں ان میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان کو رجوع کرنے کا حکم دیا حتیٰ کہ پاک ہو جائے،پھر حیض آئے پھر پاک ہو،پھر چاہے تو طلاق دیدے یا رکھ لے۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: عطاء خراسانی سے بھی بواسطہ ((الحسن ،عن ابن عمر)) اسی طرح روایت کی گئی ہے جیسے کہ نافع اور زہری نے روایت کی ہے۔اور یہ سب روایات ابوالزبیر کے بیان کے خلاف ہیں۔