Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 2186 (سنن أبي داود)

[2186]إسنادہ حسن

أخرجہ ابن ماجہ (2025 وسندہ صحیح)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ ہِلَالٍ أَنَّ جَعْفَرَ بْنَ سُلَيْمَانَ حَدَّثَہُمْ،عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ،عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللہِ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَہُ،ثُمَّ يَقَعُ بِہَا،وَلَمْ يُشْہِدْ عَلَی طَلَاقِہَا وَلَا عَلَی رَجْعَتِہَا؟ فَقَالَ: طَلَّقْتَ لِغَيْرِ سُنَّةٍ،وَرَاجَعْتَ لِغَيْرِ سُنَّةٍ،أَشْہِدْ عَلَی طَلَاقِہَا،وَعَلَی رَجْعَتِہَا, وَلَا تَعُدْ.

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے اور پھر اس سے مباشرت کر لیتا ہے مگر طلاق دینے یا اس سے رجوع کرنے پر گواہ نہیں بناتا۔انہوں نے کہا: تو نے خلاف سنت طلاق دی اور خلاف سنت ہی رجوع کیا۔بیوی کو طلاق دیتے وقت گواہ بناؤ اور رجوع کے وقت بھی۔اور پھر ایسے نہ کرنا۔