Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 2187 (سنن أبي داود)

[2187] إسنادہ ضعیف

نسائی (3457،3458) ابن ماجہ (2082)

عمر بن معتب ضعیف (تقریب التہذیب: 4971)

انوار الصحیفہ ص 82

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا زُہَيْرُ بْنُ حَرْبٍ،حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ،حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ،حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ أَبِي كَثِيرٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ مُعَتِّبٍ أَخْبَرَہُ أَنَّ أَبَا حَسَنٍ-مَوْلَی بَنِي نَوْفَلٍ-: أَخْبَرَہُ أَنَّہُ اسْتَفْتَی ابْنَ عَبَّاسٍ فِي مَمْلُوكٍ،كَانَتْ تَحْتَہُ مَمْلُوكَةٌ،فَطَلَّقَہَا تَطْلِيقَتَيْنِ،ثُمَّ عُتِقَا بَعْدَ ذَلِكَ،ہَلْ يَصْلُحُ لَہُ أَنْ يَخْطُبَہَا؟ قَالَ: نَعَمْ،قَضَی بِذَلِكَ رَسُولُ اللہِ ﷺ.

ابوحسن مولیٰ بنی نوفل نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ غلام جس کی زوجیت میں کوئی لونڈی ہو،وہ اسے دو طلاقیں دیدے،پھر وہ دونوں اس کے بعد آزاد ہو جائیں تو کیا اس آزاد غلام کے لیے روا ہے کہ وہ اس (اپنی پہلے والی بیوی،یعنی اس آزاد لونڈی) کو شادی کا پیغام دے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح فیصلہ فرمایا تھا۔