Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 2188 (سنن أبي داود)

[2188] إسنادہ ضعیف

انظر الحدیث السابق (2187)

انوار الصحیفہ ص 82

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی،حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ،أَخْبَرَنَا عَلِيٌّ بِإِسْنَادِہِ وَمَعْنَاہُ بِلَا إِخْبَارٍ،قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ... بَقِيَتْ لَكَ وَاحِدَةٌ قَضَی بِہِ رَسُولُ اللہِ ﷺ. قَالَ أَبو دَاود: سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ،قَالَ: قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ،قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ لِمَعْمَرٍ: مَنْ أَبُو الْحَسَنِ ہَذَا لَقَدْ تَحَمَّلَ صَخْرَةً عَظِيمَةً. قَالَ أَبو دَاود: أَبُو الْحَسَنِ ہَذَا رَوَی عَنْہُ الزُّہْرِيُّ قَالَ الزُّہْرِيُّ وَكَانَ مِنَ الْفُقَہَاءِ رَوَی الزُّہْرِيُّ،عَنْ أَبِي الْحَسَنِ أَحَادِيثَ قَالَ أَبو دَاود: أَبُو الْحَسَنِ مَعْرُوفٌ وَلَيْسَ الْعَمَلُ عَلَی ہَذَا الْحَدِيثِ.

جناب علی (علی بن مبارک) نے اپنی سند سے مذکورہ بالا حدیث کی مانند بیان کیا مگر ((حدثنی)) کا صیغہ استعمال نہیں کیا (بلکہ ((عن)) کہا) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: تیرے لیے ایک ہی (طلاق) بچ گئی ہے۔رسول اللہ ﷺ نے یہی فیصلہ کیا تھا۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کو سنا۔انہوں نے کہا: عبدالرزاق نے بیان کیا کہ ابن مبارک نے معمر سے پوچھا یہ ابوالحسن کون ہے؟ اس نے بہت بڑا بھاری پتھر اٹھایا ہے۔(یہ عدم اعتماد کا اظہار ہے۔) امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ ابوالحسن وہی ہے جس سے زہری روایت کرتے ہیں۔زہری کہتے ہیں کہ یہ فقہاء میں سے تھا۔اور زہری نے اس سے کئی احادیث روایت کی ہیں۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ابوالحسن معروف ہے مگر اس حدیث پر عمل نہیں ہے۔