Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 219 (سنن أبي داود)

[219]إسنادہ حسن

سلمیٰ عمۃ عبد الرحمن بن أبي رافع: وثقہا ابن حبان وصحح لھا الحاکم والذہبي مشکوۃ المصابیح (470)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ،حَدَّثَنَا حَمَّادٌ،عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ،عَنْ عَمَّتِہِ سَلْمَی،عَنْ أَبِي رَافِعٍ: أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ: طَافَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَی نِسَائِہِ يَغْتَسِلُ عِنْدَ ہَذِہِ،وَعِنْدَ ہَذِہِ قَالَ: قُلْتُ لَہُ: يَا رَسُولَ اللہِ! أَلَا تَجْعَلُہُ غُسْلًا وَاحِدًا؟ قَالَ: ہَذَا أَزْكَی وَأَطْيَبُ وَأَطْہَر. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ أَنَسٍ أَصَحُّ مِنْ ہَذَا.

سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ (ایک بار) اپنی ازواج کے پاس آئے اور ہر ایک کے ہاں غسل کیا۔ابورافع کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ (آخر میں) ایک ہی غسل نہیں کر لیتے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’یہ زیادہ پاکیزہ،عمدہ اور طہارت کا باعث ہے۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث (جو اوپر ذکر ہوئی) اس سے زیادہ صحیح ہے۔