Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 2195 (سنن أبي داود)

[2195]إسنادہ حسن

أخرجہ النسائي (3584 وسندہ حسن)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ،حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ،عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،قَالَ: وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِہِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ وَلَا يَحِلُّ لَہُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللہُ فِي أَرْحَامِہِنَّ[البقرة: 228] الْآيَةَ،وَذَلِكَ أَنَّ الرَّجُلَ كَانَ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَہُ فَہُوَ أَحَقُّ بِرَجْعَتِہَا،وَإِنْ طَلَّقَہَا ثَلَاثًا،فَنُسِخَ ذَلِكَ،وَقَالَ:الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ[البقرة: 229].

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آیت کریمہ ((والمطلقات یتربصن بأنفسہن ثلاثۃ قروء ولا یحل لہن أن یکتمن ما خلق اللہ فی أرحامہن)) ’’طلاق والی عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں اور انہیں حلال نہیں کہ وہ وہ چیز چھپا لیں جو اللہ نے ان کے رحموں میں پیدا کی ہے۔‘‘ اس کی تفسیر میں بیان کیا کہ آدمی جب اپنی بیوی کو طلاق دیتا تھا تو وہی اس کی طرف رجوع کرنے کا زیادہ حقدار سمجھا جاتا تھا،خواہ تین طلاقیں ہی دے چکا ہوتا۔اس کو منسوخ کر دیا گیا اور فرمایا ((الطلاق مرتان)) ’’(قابل رجوع) طلاق دو بار ہے۔‘‘