Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 2196 (سنن أبي داود)

[2196] إسنادہ ضعیف

بعض بني أبي رافع: مجہول

وأشار ابن حجر فی التقریب (ج 4 ص 391) کأنہ الفضل بن عبید اللہ بن أبي رافع والفضل ھذا: مقبول (تقریب: 5408) یعني مجہول الحال

انوار الصحیفہ ص 83

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ،أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ،أَخْبَرَنِي بَعْضُ بَنِي أَبِي رَافِعٍ مَوْلَی النَّبِيِّ ﷺ،عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،قَالَ: طَلَّقَ عَبْدُ يَزِيدَ أَبُو رُكَانَةَ وَإِخْوَتِہِ أُمَّ رُكَانَةَ،وَنَكَحَ امْرَأَةً مِنْ مُزَيْنَةَ،فَجَاءَتِ النَّبِيَّ ﷺ،فَقَالَتْ: مَا يُغْنِي عَنِّي إِلَّا كَمَا تُغْنِي ہَذِہِ الشَّعْرَةُ-لِشَعْرَةٍ أَخَذَتْہَا مِنْ رَأْسِہَا-،فَفَرِّقْ بَيْنِي وَبَيْنَہُ،فَأَخَذَتِ النَّبِيَّ ﷺ حَمِيَّةٌ،فَدَعَا بِرُكَانَةَ وَإِخْوَتِہِ،ثُمَّ قَالَ لَجُلَسَائِہِ: أَتَرَوْنَ فُلَانًا يُشْبِہُ مِنْہُ كَذَا وَكَذَا مِنْ عَبْدِ يَزِيدَ،وَفُلَانًا يُشْبِہُ مِنْہُ كَذَا وَكَذَا؟،قَالُوا: نَعَمْ،قَالَ النَّبِيُّ ﷺ لِعَبْدِ يَزِيدَ: طَلِّقْہَا،فَفَعَلَ،ثُمَّ قَالَ: رَاجِعِ امْرَأَتَكَ أُمَّ رُكَانَةَ وَإِخْوَتِہِ،قَالَ: إِنِّي طَلَّقْتُہَا ثَلَاثًا يَا رَسُولَ اللہِ! قَالَ: قَدْ عَلِمْتُ،رَاجِعْہَا،وَتَلَا: يَا أَيُّہَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوہُنَّ لِعِدَّتِہِنَّ[الطلاق: 1]. قَالَ أَبو دَاود: وَحَدِيثُ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرٍ وَعَبْدِ اللہِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ جَدِّہِ أَنَّ رُكَانَةَ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ الْبَتَّةَ،فَرَدَّہَا إِلَيْہِ النَّبِيُّ ﷺ أَصَحُّ لِأَنَّ وَلَدَ الرَّجُلِ وَأَہْلَہُ أَعْلَمُ بِہِ،إِنَّ رُكَانَةَ إِنَّمَا طَلَّقَ امْرَأَتَہُ الْبَتَّةَ،فَجَعَلَہَا النَّبِيُّ ﷺ وَاحِدَةً.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہعبد یزید جو رکانہ اور اس کے بھائیوں کا والد تھا۔اس نے ام رکانہ کو طلاق دے دی اور قبیلہ مزینہ کی ایک عورت سے نکاح کر لیا۔پھر یہ (مزنی عورت) نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور کہا: یہ میرے کام کا نہیں،جیسے یہ بال،اور اس نے اپنے سر سے بال پکڑ کر اشارہ کیا (یعنی نامرد ہے)،آپ ﷺ میرے اور اس کے درمیان علیحدگی کرا دیں۔اس پر نبی کریم ﷺ کو غصہ آیا اور پھر رکانہ اور اس کے بھائیوں کو بلوایا،اور حاضرین سے کہا: ’’کیا دیکھتے ہو کہ فلاں بچہ اس سے کس قدر مشابہ ہے۔‘‘ یعنی عبد یزید کے ساتھ ’’اور فلاں اس سے کتنا مشابہ ہے۔‘‘ سب نے کہا کہ جی ہاں (یعنی جب پہلے اس کی اولاد موجود ہے تو اس عورت کا دعوہ کس طرح صحیح ہو سکتا ہے) تو نبی کریم ﷺ نے عبد یزید سے فرمایا ’’اس کو طلاق دے دو۔‘‘ چنانچہ اس نے (طلاق) دے دی۔اور فرمایا ’’اپنی (پہلی) بیوی سے جو رکانہ اور اس کے بھائیوں کی ماں ہے،رجوع کر لو۔‘‘ وہ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! میں نے اسے تین طلاقیں دی ہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’مجھے معلوم ہے،اس لے رجوع کر لو۔‘‘ اور یہ آیت تلاوت فرمائی ((یأیہا النبی إذا طلقتم النساء فطلقوہن لعدتہن)) ’’اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دینا چاہو تو عدت کے وقت طلاق دیا کرو۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نافع بن عجیر اور عبداللہ بن علی بن یزید بن رکانہ کی روایت ہے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دی تھی تو نبی کریم ﷺ نے اس کی بیوی کو اس پر لوٹا دیا تھا،یہ روایت زیادہ صحیح ہے،کیونکہ یہ اس آدمی کی اولاد ہیں اور گھر والے اس کے متعلق زیادہ باخبر ہو سکتے ہیں،یعنی رکانہ نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دی اور رسول اللہ ﷺ نے اس کو ایک بنا دیا۔