Sunan Abi Dawood Hadith 2197 (سنن أبي داود)
[2197]إسنادہ صحیح
وحدیث ابی داود عن حماد بن زید لم أجدہ موصولًا وھذا لغیر المدخولۃ إن صح مشکوۃ المصابیح (3293)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ،حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ،أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ كَثِيرٍ،عَنْ مُجَاہِدٍ،قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ،فَجَاءَہُ رَجُلٌ،فَقَالَ: إِنَّہُ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ ثَلَاثًا! قَالَ: فَسَكَتَ،حَتَّی ظَنَنْتُ أَنَّہُ رَادُّہَا إِلَيْہِ،ثُمَّ قَالَ: يَنْطَلِقُ أَحَدُكُمْ فَيَرْكَبُ الْحُمُوقَةَ،ثُمَّ يَقُولُ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ! يَا ابْنَ عَبَّاسٍ! وَإِنَّ اللہَ قَالَ:وَمَنْ يَتَّقِ اللہَ يَجْعَلْ لَہُ مَخْرَجًا[الطلاق: 2]،وَإِنَّكَ لَمْ تَتَّقِ اللہَ،فَلَمْ أَجِدْ لَكَ مَخْرَجًا،عَصَيْتَ رَبَّكَ،وَبَانَتْ مِنْكَ امْرَأَتُكَ،وَإِنَّ اللہَ قَالَ: يَا أَيُّہَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوہُنَّ[الطلاق: 1], فِي قُبُلِ عِدَّتِہِنَّ. قَالَ أبو دَاود: رَوَی ہَذَا الْحَدِيثَ حُمَيْدٌ الْأَعْرَجُ وَغَيْرُہُ،عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَرَوَاہُ شُعْبَةُ،عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ،عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَيُّوبُ وَابْنُ جُرَيْجٍ جَمِيعًا،عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ،عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنُ جُرَيْجٍ،عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ رَافِعٍ،عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَرَوَاہُ الْأَعْمَشُ،عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،وَابْنُ جُرَيْجٍ،عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ كُلُّہُمْ قَالُوا فِي الطَّلَاقِ الثَّلَاثِ أَنَّہُ: أَجَازَہَا،قَالَ: وَبَانَتْ مِنْكَ،نَحْو حديث إِسْمَاعِيلَ،عَنْ أَيُّوبَ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ كَثِيرٍ. قَالَ أبو دَاود: وَرَوَی حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ،عَنْ أَيُّوبَ،عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،إِذَا قَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا بِفَمٍ وَاحِدٍ فَہِيَ وَاحِدَةٌ،وَرَوَاہُ إِسْمَاعِيلُ ابْنُ إِبْرَاہِيمَ،عَنْ أَيُّوبَ،عَنْ عِكْرِمَةَ ہَذَا قَوْلُہُ لَمْ يَذْكُرِ ابْنَ عَبَّاسٍ وَجَعَلَہُ قَوْلَ عِكْرِمَةَ .
مجاہد کہتے ہیں کہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں۔چنانچہ وہ خاموش ہو رہے حتیٰ کہ مجھے گمان ہوا کہ وہ اس عورت کو اس پر واپس کر دیں گے۔(رجوع کرنے کا فتوی دے دیں گے۔) پھر بولے: تم میں ایک اٹھتا ہے اور حماقت کا ارتکاب کرتا ہے،پھر کہتا ہے: ابن عباس! ابن عباس! تحقیق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ((ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا)) ’’جو اللہ کا تقویٰ اختیار کرے،اللہ اس کے لیے نکلنے کی راہ بھی پیدا فرما دیتا ہے۔‘‘ تو نے اللہ کا تقویٰ اختیار نہیں کیا،لہٰذا میں تیرے لیے کوئی راہ نہیں پاتا۔تو نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور بیوی تجھ سے جدا ہو گی۔اور اللہ عزوجل نے فرمایا ہے ((یأیہا النبی إذا طلقتم النساء فطلقوہن سورۃ الطلاق آیۃ 1 فی قبل عدتہن)) ’’اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دینا چاہو تو انہیں ان کی عدت کے شروع میں طلاق دو۔‘‘ (اس سند کی متابعات کا بیان) (1) امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کو (الف) حمید اعرج وغیرہ نے بواسطہ مجاہد،ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کیا ہے۔(ب) شعبہ نے عمرہ بن مرہ سے بواسطہ سعید بن جبیر،ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔(ج) ایوب اور ابن جریج نے عکرمہ بن خالد سے بواسطہ سعید بن جبیر،ابن عباس روایت کیا ہے۔(د) ابن جریج نے عبدالحمید بن رافع سے بواسطہ عطاء،ابن عباس روایت کیا ہے۔(ھ) اعمش نے بواسطہ مالک بن حارث،ابن عباس روایت کیا ہے (و) ابن جریج نے بواسطہ عمرو بن دینار،ابن عباس روایت کیا ہے۔یہ سب روایت کرتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے تین طلاق کو نافذ کیا اور کہا: عورت تجھ سے (بائنہ) جدا ہو گئی جیسے کہ ((إسماعیل عن أیوب عن عبد اللہ بن کثیر)) کی سند میں آیا ہے۔(2) امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ حماد بن زید ایوب سے بواسطہ عکرمہ،ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ جب کہنے والے نے ایک ہی مرتبہ کہا کہ‘‘ تجھے تین طلاق ہے‘‘ تو یہ ایک طلاق ہے۔اور اسماعیل بن ابراہیم نے ایوب سے بواسطہ عکرمہ اسے نقل کیا تو ابن عباس کا نام نہیں لیا بلکہ اس کو عکرمہ کا قول بنایا ہے۔