Sunan Abi Dawood Hadith 2198 (سنن أبي داود)
[2198]صحیح
الزھري صرح بالسماع فی المصنف عبد الرزاق (11070)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَصَارَ قَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ فِيمَا،حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی وَہَذَا حَدِيثُ أَحْمَدَ،قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ،عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّہْرِيِّ،عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ،عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِيَاسٍ،أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ،وَأَبَا ہُرَيْرَةَ،وَعَبْدَ اللہِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ،سُئِلُوا عَنِ الْبِكْرِ يُطَلِّقُہَا زَوْجُہَا ثَلَاثًا؟ فَكُلُّہُمْ قَالُوا: لَا تَحِلُّ لَہُ،حَتَّی تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَہُ. قَالَ أبو دَاود: رَوَی مَالِكٌ،عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ،عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ،عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ،أَنَّہُ شَہِدَ ہَذِہِ الْقِصَّةَ،حِينَ جَاءَ مُحَمَّدُ بْنُ إِيَاسِ بْنِ الْبُكَيْرِ إِلَی ابْنِ الزُّبَيْرِ وَعَاصِمِ بْنِ عُمَرَ،فَسَأَلَہُمَا عَنْ ذَلِكَ؟ فَقَالَا: اذْہَبْ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ،وَأَبِي ہُرَيْرَةَ،فَإِنِّي تَرَكْتُہُمَا عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِي اللہ عَنْہَا... ثُمَّ سَاقَ ہَذَا الْخَبَرَ. قَالَ أبو دَاود: وَقَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ ہُوَ: أَنَّ الطَّلَاقَ الثَّلَاثَ تَبِينُ مِنْ زَوْجِہَا مَدْخُولًا بِہَا،وَغَيْرَ مَدْخُولٍ بِہَا،لَا تَحِلُّ لَہُ،حَتَّی تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَہُ ہَذَا مِثْلُ خَبَرِ الصَّرْفِ! قَالَ فِيہِ،ثُمَّ إِنَّہُ رَجَعَ عَنْہُ-يَعْنِي: ابْنَ عَبَّاسٍ-.
امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ فتویٰ بدل گیا تھا جیسے کہ ہمیں احمد بن صالح اور محمد بن یحییٰ نے بیان کیا اور یہ روایت احمد بن صالح کی ہے اور ان دونوں کی سند یوں ہے ((حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن الزہری، عن أبی سلمۃ بن عبد الرحمن بن عوف)) (دوسری سند) ((محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان، عن محمد بن إیاس، أن ابن عباس، وأبا، ہریرۃ وعبد اللہ بن عمرو بن العاص)) محمد بن عبدالرحمٰن بن ثوبان،محمد بن ایاس سے بیان کرتے ہیں کہ حضرات ابن عباس،ابوہریرہ اور عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم سے سوال کیا گیا کہ کنواری لڑکی کو اگر اس کا شوہر تین طلاقیں دیدے (قبل از مباشرت) تو؟ سب نے کہا کہ یہ شوہر کے لیے حلال نہیں حتیٰ کہ کسی اور سے نکاح کرے۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ امام مالک رحمہ اللہ نے بہ سند ((یحیی بن سعید عن بکیر بن الأشج عن معاویۃ بن أبی عیاش)) روایت کیا (معاویہ نے کہا) کہ میں اس قصے کا گواہ ہوں،محمد بن ایاس بن بکیر،ابن الزبیر اور عاصم بن عمر کے پاس آیا اور ان دونوں سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم کے پاس چلے جاؤ،میں نے ان کو عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں چھوڑا ہے۔پھر یہ قصہ بیان کیا۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ قول کہ عورت تین طلاق سے اپنے شوہر سے بائنہ (جدا) ہو جاتی ہے،خواہ شوہر نے اس سے مباشرت کی ہو یا نہ کی ہو،وہ اس کے لیے حلال نہیں رہتی جب تک کہ کسی اور سے نکاح نہ کر لے۔ان کا یہ فتویٰ ایسے ہی ہے جیسے کہ انہوں نے بیع صرف (سونے چاندی کی بیع) کے بارے میں فتویٰ دیا تھا،پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے اس فتویٰ سے رجوع کر لیا تھا۔