Sunan Abi Dawood Hadith 2199 (سنن أبي داود)
[2199] إسنادہ ضعیف
’’غیر واحد‘‘ لم أعرفھم،و موقوف ابن عباس یؤید ھذا الحدیث،انظر نیل المقصود (2197) وتلخیصہ لمزیدالتحقیق
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ،حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ،حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ،عَنْ أَيُّوبَ،عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ،عَنْ طَاوُسٍ،أَنَّ رَجُلًا-يُقَالُ لَہُ،أَبُو الصَّہْبَاءِ-،كَانَ كَثِيرَ السُّؤَالِ لِابْنِ عَبَّاسٍ،قَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الرَّجُلَ كَانَ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَہُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِہَا،جَعَلُوہَا وَاحِدَةً عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ ﷺ،وَأَبِي بَكْرٍ،وَصَدْرًا مِنْ إِمَارَةِ عُمَرَ؟! قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: بَلَی،كَانَ الرَّجُلُ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَہُ ثَلَاثًا،قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِہَا،جَعَلُوہَا وَاحِدَةً عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ ﷺ،وَأَبِي بَكْرٍ،وَصَدْرًا مِنْ إِمَارَةِ عُمَرَ،فَلَمَّا رَأَی النَّاسَ قَدْ تَتَابَعُوا فِيہَا قَالَ: أَجِيزُوہُنَّ عَلَيْہِمْ.
طاؤس کہتے ہیں کہ ابو الصہباء نامی ایک شخص سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بہت زیادہ سوال کیا کرتا تھا۔اس نے کہا: کیا آپ کو علم ہے کہ جب کوئی آدمی اپنی بیوی کو مباشرت سے پہلے تین طلاقیں دے دیتا تھا تو ایسی طلاق کو رسول اللہ ﷺ،ابوبکر رضی اللہ عنہ اور اوائل دور عمر رضی اللہ عنہ میں ایک ہی بنایا (شمار) کرتے تھے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ہاں! آدمی جب اپنی بیوی کو مباشرت سے پہلے تین طلاقیں دے دیتا تھا تو عہد رسالت،عہد ابی بکر اور ابتدائے عہد عمر میں اس کو ایک ہی بنا دیتے تھے۔عمر نے جب دیکھا کہ لوگ مسلسل طلاقیں دینے لگے ہیں تو انہوں نے کہا: انہیں ان پر نافذ کر دو۔